دریائے سندھ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے سے گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچ گیا،نشیبی علاقوں کے لیے وارننگ جاری ، متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ، عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل
دادو میں سیلاب سے متاثرہ کچے کے گائوں میں مکان گرنے سے خاتون اور اس کی تین سال کی بیٹی جاں بحق ،شجاع آباد کے علاقے جلالپور کھاکھی میں کشتی الٹ گئی، ۔ کشتی پر 40کے قریب افراد سوار تھے
ہیڈ محمد والا اورشیر شاہ کی درجنوں بستیاں ابھی تک گہرے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، شجاع آباد اورجلالپور پیروالا میں لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ادھر چاچڑاں میں سیکڑوں مکانات دریا برد ہوگئے، فصلیں تباہ
صادق آباد میں نبی شاہ کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹ گیا پانی آبادی میں داخل ،شجاع آباد میں بھی تباہی ، متاثرین کی مشکلات بڑھنے لگیں، بستی دھوندو کے بند میں شگاف بڑھ کر دو سوچالیس فٹ ہوگیا
لاہور، ملتان، رحیم یار خان، راجن پور(آئی این پی )پنجاب میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، شجاع آباد ، رحیم یار خان، احمد پور شرقیہ ، راجن پور اور وہاڑی کے مزید سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ دریائے سندھ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے سے گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچ گیا،نشیبی علاقوں کے لیے وارننگ جاری کر دی گئی جبکہ متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کر دی گئی۔فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق دریائے چناب میں پنجند بیراج کے مقام پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں بہت اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔واضح رہے کہ پنجاب میں سیلاب سے اموات سو سے تجاوز کر چکی ہیں، 5 ہزار کے قریب دیہات اور 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں ایکڑ پر اجناس کی کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر نے بتایا کہ چناب کے سیلاب سے ضلع مظفرگڑھ کے 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، ضلع کا 2 لاکھ 9 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیرآب آیا اور فصلیں تباہ ہوئیں،۔تحصیل مظفرگڑھ کے 105،تحصیل علی پور کے 26 اور تحصیل جتوئی کے 16 موضع جات متاثر ہوئے، ضلع بھر میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کے لیے 221 کشتیاں کام کررہی ہیں۔شجاع آباد کے علاقے جلالپور کھاکھی میں کشتی الٹ گئی، ۔ کشتی پر 40کے قریب افراد سوار تھے۔ریسکیو 1122 حکام نے بتایا ہے کہ تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ملتان کو دریائے چناب سے سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، ہیڈ محمد والا اورشیر شاہ کی درجنوں بستیاں ابھی تک گہرے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، شجاع آباد اورجلالپور پیروالا میں لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔ادھر چاچڑاں میں سیکڑوں مکانات دریا برد ہوگئے، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ اور رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں۔صادق آباد میں نبی شاہ کے مقام پر زمیندارہ بند ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔اس کے علاوہ شجاع آباد میں بھی سیلابی ریلا تباہی مچا رہا ہے، متاثرین کی مشکلات بڑھنے لگیں، بستی دھوندو کے بند میں شگاف بڑھ کر دو سوچالیس فٹ ہوگیا۔جلال پور پیروالا میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے، شیر شاہ میں کے متعدد علاقے بھی زیر آب آگئے، اوچ شریف کے دریائی علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے اور زیر آب بستیوں میں رات گئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔راجن پور میں کچے کے علاقے میں سیلاب کے باعث ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہیں، روجھان ، بنگلہ اچھا ، سونمیانی اورکوٹ مٹھن میں کچے کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق ایک لاکھ 10 ہزار افراد اور ایک لاکھ سے زائد مویشیوں کو منتقل کیا جاچکا ہے، متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کردئیے گئے ہیں ، ڈرونز کی مدد سے سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔دوسری جانب وہاڑی میں بھی 100 سے زائد دیہی علاقے سیلاب میں گھر گئے، 76 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر فصلیں زیر آب آگئیں۔علاوہ ازیں رحیم یار خان میں دریائے سندھ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، متعدد دیہات اور بستیاں زیر آب آگئیں، لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔علی پور میں پنجند پر پانی کی آمد و اخراج 4 لاکھ 22 ہزار 5 سو 22 کیوسک ہے جو پہلے سے کم ہے ، ماہرین کے مطابق پانی کی سطح میں یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے تاہم مسلسل نگرانی ضروری ہے تاکہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔