لاہور ہائی کورٹ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست، پی ٹی اے اور دیگر کو نوٹس جاری

لاہور ہائی کورٹ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست، پی ٹی اے اور دیگر کو نوٹس جاری

لاہور ہائی کورٹ میں پیر کے روز کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی روکنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

 چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری اعظم بٹ کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار اعظم بٹ نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ:کم عمر بچے فیس بک اور ٹک ٹاک پر نامناسب اور غیر اخلاقی مواد دیکھتے ہیں۔ان ایپس کے حد سے زیادہ استعمال سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔عدالت کم عمر بچوں کے ان پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرے تاکہ نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
چیف جسٹس کے ریمارکس
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ:سوشل میڈیا پر ایسا نظام موجود ہے جس کے ذریعے والدین بچوں کی رسائی کو محدود کر سکتے ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک میں والدین اس حوالے سے بھرپور نگرانی کرتے ہیں۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نظر رکھیں۔
حکومتی وکیل کا مؤقف
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ:پٹیشن میں فریق درست شامل نہیں کیا گیا۔درخواست گزار کو حکومت پاکستان کو فریق بنانا چاہیے تھا، محض پی ٹی اے کو شامل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
عدالت کی ہدایات
چیف جسٹس نے کہا کہ:اگر درخواست پی ٹی اے کو دی گئی ہے تو اس پر ان سے جواب طلب کیا جائے۔کمیشن کا مقصد ہی یہی ہے کہ شہریوں کے مسائل متعلقہ اداروں کے ذریعے حل کیے جائیں۔
بعد ازاں عدالت نے پی ٹی اے اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔