لاہور ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا ایپس کی بندش کے حوالے سے درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا ایپس پر آن لائن فراڈ کی بڑھتی ہوئی شکایات ہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ یہ ایپس صارفین کو جعلی اشتہارات اور غلط معلومات فراہم کر کے انہیں مالی نقصان پہنچا رہی ہیں، اور ان کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات بھی غیر قانونی طور پر حاصل کی جا رہی ہیں، جس سے پرائیویسی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں استعمال ہونے والی سوشل میڈیا ایپس کے سرورز یا فوکل پرسنز کی موجودگی قانونی تقاضا ہے، اور چونکہ یہ ایپس پاکستان کے قوانین کو نظرانداز کر رہی ہیں، اس لیے ان پر پابندی عائد کی جائے۔
اس درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے سماعت کی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نوٹس جاری کیا، تاکہ اس حوالے سے تفصیلی جواب جمع کروایا جا سکے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔