16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست کی سماعت

16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست کی سماعت

 لاہور ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان کی عدم پیشی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت علی ڈوگر، جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد نوید شیخ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل شیزا قریشی نے دلائل کے لیے حاضری دی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے پیراگراف 27-A کا جواب جمع کروانے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔ اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کہاں ہیں اور وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل کو 27-A کا نوٹس جاری کیا گیا تھا اور انہیں پیش ہو کر عدالتی معاونت کرنی چاہیے تھی۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی عدم پیشی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

 چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خود عدالت میں پیش ہو کر معاونت کریں۔لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔درخواست میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق معاملہ زیرِ غور ہے۔ آئندہ سماعت پر وفاقی اور پنجاب حکومت کے نمائندے اس حوالے سے عدالت کی معاونت کریں گے۔