گنجے عقاب کو آزادی کے 240 سال بعد امریکہ کا قومی پرندہ قرار دینے کی وجہ کیا ہے؟

گنجے عقاب کو آزادی کے 240 سال بعد امریکہ کا قومی پرندہ قرار دینے کی وجہ کیا ہے؟

ویب ڈیسک: گنجے عقاب (Bald Eagle) کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر باضابطہ طور پر امریکا کا قومی پرندہ قرار دیا گیا، جب سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک غیر معمولی بل پر دستخط کرکے اسے قانونی حیثیت دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اعلان نے کئی امریکیوں کو حیران کر دیا، کیونکہ ان کے خیال میں گنجا عقاب تو پہلے ہی امریکا کا قومی پرندہ تھا — اس کی تصویر امریکی سرکاری علامتوں، فوجی نشانوں، کرنسی اور پرچموں پر صدیوں سے موجود ہے۔اصل میں، یہ داستان 1776ء میں امریکا کی آزادی کے فوراً بعد شروع ہوئی، جب ملک کو ایک ایسی علامت درکار تھی جو طاقت، حوصلے اور آزادی کی نمائندگی کرے۔اس مقصد کے لیے تین کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، مگر کوئی بھی کانگریس کو مطمئن نہ کر سکی۔ بعد ازاں کانگریس کے سیکریٹری چارلس تھامسن نے تینوں ناکام ڈیزائنوں کو ملا کر ایک نیا قومی نشان تیار کیا — جو آج "گریٹ سیل آف دی یونائیٹڈ اسٹیٹس" (Great Seal of the United States) کے نام سے جانا جاتا ہے۔1782ء میں اس نشان میں عقاب، زیتون کی شاخ، تیر، امریکی پرچم اور ابتدائی 13 ریاستوں کی نمائندگی کے لیے 13 ستارے شامل کیے گئے۔ابتدائی طور پر سفید عقاب رکھا گیا، مگر چارلس تھامسن کی تجویز پر اسے شمالی امریکا کے مقامی پرندے گنجے عقاب سے تبدیل کر دیا گیا۔

یوں گنجا عقاب 1782ء میں امریکا کے قومی نشان کا حصہ تو بن گیا، لیکن حیرت انگیز طور پر کبھی سرکاری طور پر قومی پرندہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔یہ کمی 2010ء میں منیسوٹا کے شہری پرنسٹل کوک نے دریافت کی، جنہوں نے تحقیق کے بعد معلوم کیا کہ امریکا کے قومی پھول، درخت اور جانور تو مقرر ہیں مگر قومی پرندے کا ذکر کہیں نہیں۔پرنسٹل کوک نے یہ معاملہ کانگریس تک پہنچایا اور نیشنل ایگل سینٹر کے تعاون سے ایک باقاعدہ مہم شروع کی، جو 23 دسمبر 2023ء کو کامیاب ہوئی، جب صدر بائیڈن نے بل پر دستخط کر کے گنجے عقاب کو باضابطہ قومی پرندہ قرار دے دیا۔گنجا عقاب اپنی سفید سر و دم، بھورے جسم، زرد چونچ اور تیز پنجوں کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہ تیز نگاہ، بلند پرواز اور جرأت کی علامت سمجھا جاتا ہے — بالکل اسی طرح جیسے قدیم رومی سلطنت میں عقاب کو طاقت و عظمت کی علامت مانا جاتا تھا۔اسی لیے گنجا عقاب آج صرف امریکا کی علامت نہیں، بلکہ اس قوم کی روح، آزادی اور بہادری کی زندہ نشانی بن چکا ہے۔