پنجاب میں موجودہ سیلاب ماہرین کے مطابق ’سُپر فلڈ‘، اگلے 24 سے 48 گھنٹے انتہائی اہم، وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری

پنجاب میں موجودہ سیلاب ماہرین کے مطابق ’سُپر فلڈ‘، اگلے 24 سے 48 گھنٹے انتہائی اہم، وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری

لاہور: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ موجودہ سیلاب کو ماہرین نے سُپر فلڈ قرار دیا ہے اور آنے والے 24 سے 48 گھنٹے نہایت اہم ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے سبب غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی ہے، دریائے راوی، چناب اور ستلج میں ایک ہی وقت میں سیلاب آیا ہے، جس کے باعث ساہیوال، ملتان، جھنگ اور دیگر علاقے ہائی الرٹ پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، تھرمل ٹیکنالوجی اور ڈرونز کے ذریعے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے میں 510 شاہراہیں اور 64 پل متاثر ہوئے، جن میں سے 50 سے زائد شاہراہیں اور 40 پلوں کی بحالی کر دی گئی ہے، اور بروقت انتظامات کی بدولت زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی تک انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی اور جن علاقوں سے پانی اتر گیا ہے وہاں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ موبائل ٹوائلٹس کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ڈیمز پر سیاست کو ختم کر کے سب کو ایک ٹیبل پر بیٹھ کر عوام کو بچانا ہوگا، یہ وقت سیاست کا نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب میں بہت سارے مویشی بھی بہہ کر دوسرے مقامات پر پہنچ جاتے ہیں، اس لیے انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو بھی بچایا جا رہا ہے اور لوسٹ اینڈ فائنڈ ڈپارٹمنٹ کے ذریعے مویشیوں کی مالکان کو حوالگی دی جا رہی ہے۔صوبائی وزیر نے غیر قانونی آباد سوسائٹیوں کے حوالے سے بھی وضاحت کی اور کہا کہ پنجاب حکومت کسی غیر قانونی سوسائٹی کو این او سی نہیں دے گی اور ماسٹر پلان کے تحت قانونی اور غیر قانونی آبادیاں الگ کرنے کا کام جاری ہے۔