گورنر فیصل کریم کنڈی نے سہیل آفریدی کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی

گورنر فیصل کریم کنڈی نے سہیل آفریدی کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن لازمی ہوں گے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی نوبت آئے۔بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کے بقول، "میرا مقصد صوبے کی بہتری اور عوام کے مفاد میں کام کرنا ہے، نہ کہ کسی سیاسی تصادم کو ہوا دینا۔"

سہیل آفریدی کی تقریر جذباتی تھی
گورنر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا،"سہیل آفریدی کی تقریر جذباتی تھی، وہ پی ٹی آئی کے ورکرز کے لیے تھی، خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے نہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نوجوان ہیں، "اس عمر میں اس طرح کی تقاریر ہو جاتی ہیں، مگر اب انہیں صوبے کی قیادت کے لحاظ سے سنجیدگی اختیار کرنی ہوگی۔"

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ناگزیر قرار
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی جو آئین اور قانون کو نہیں مانتے۔"ہمارے صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوں گے اور لازمی ہوں گے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ حالات ٹھیک نہیں اور آپریشن نہ ہو، وہ حقیقت سے آنکھ چرا رہے ہیں۔"
پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ممکنہ تعلقات پر تبصرہ
گورنر نے مستقبل میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔"اگر پی ٹی آئی اپنا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو بنا سکتی ہے تو پھر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔"
علی امین گنڈاپور پر تنقید
فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی غیر حاضری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا،"جانے والا وزیراعلیٰ آنے والے کو وزارتِ اعلیٰ دے کر جاتا ہے، یہ روایت قائم رہنی چاہیے تھی۔"انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور نے ہمیشہ وفاق کے ساتھ تعلقات میں تناؤ رکھا۔"ہمارے صوبے کو وفاق پر یلغار نہیں کرنی چاہیے بلکہ این ایف سی اور بقایاجات کے لیے بات کرنی چاہیے۔ عوام اب اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ برداشت نہیں کر سکتے۔"
پی ٹی آئی بانی کے بارے میں سخت مؤقف
گورنر خیبر پختونخوا نے آخر میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو احتجاج یا دھرنوں سے آزادی نہیں ملے گی۔"آزادی دھرنوں یا احتجاجوں سے نہیں، عدالتوں سے ملتی ہے۔"