آرٹیکل 191 اے جوڈیشل کمیشن کو اختیار دیتا ہے وہ آئینی بینچوں کیلئے جج نامزد کرے، جوڈیشل کمیشن پر یہ پابندی تو نہیں ہے:جسٹس عائشہ
اگر جوڈیشل کمیشن ایک جج کو آئینی بینچ کیلئے نامزد نہیں کرتا تو کیا ہم آرڈر دے سکتے ہیں اسے شامل کریں؟ جسٹس امین الدین‘آئینی ترمیم کیس میں ریمارکس
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 26ویں ترمیم کے خلاف کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی، جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ سے بھی اوپر ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا اپنا اختیار ہے اور جوڈیشل کمیشن کی اپنی اتھارٹی ہے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی‘جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آرٹیکل 191 اے جوڈیشل کمیشن کو اختیار دیتا ہے کہ وہ آئینی بینچز کے لیے ججز نامزد کرے، جوڈیشل کمیشن پر یہ پابندی تو نہیں ہے اس نے کس جج کو نامزد کرنا ہے کسے نہیں کرنا، سپریم کورٹ کا یہ 8 رکنی آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن کو ہدایت دے سکتا ہے کہ وہ فل کورٹ بنائے، جوڈیشل کمیشن کو ایسا آرڈر نہ دینے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر جوڈیشل کمیشن ایک جج کو آئینی بینچ کے لیے نامزد نہیں کرتا تو کیا ہم آرڈر دے سکتے ہیں اسے شامل کریں؟ ہم جوڈیشل کمیشن کو کیا آرڈر دے سکتے ہیں کہ فلاں جج کو آئینی بینچ میں شامل کریں، جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اسکا اندرونی معاملہ ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ سے بھی اوپر ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا اپنا اختیار ہے اور جوڈیشل کمیشن کی اپنی اتھارٹی ہے‘سماعت20اکتوبر تک ملتوی کردی گئی