سپریم کورٹ نے صرف انتخابی نشان کافیصلہ کیا تھا پی ٹی آئی نے خود ہی سمجھ لیا وہ سیاسی جماعت نہیں رہی جسٹس امین الدین

فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو حق دیا گیا وہ  کسی سیاسی جماعت میں جائیں، کیا بہتر نہ ہوتا  تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟جسٹس امین الدین کے ریمارکس
سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا نے اپنی پارٹی سے الیکشن کیوں نہیں لڑا:جسٹس مسرت ہلالی‘کبھی کہتے ہیں یہ سنی اتحاد کے امیدوار ہیں، کبھی کہتے ہیں ہمارے امیدوار نہیں :جسٹس باقر نجفی

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت  29مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی جبکہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے فیصلے میں آدھے جیتے ہوئے امیدواروں کو حق دیا گیا کہ کسی سیاسی جماعت میں جائیں، کیا بہتر نہ ہوتا کہ تمام امیدواروں کو یہ حق دیا جاتا؟‘جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا نے اپنی پارٹی سے الیکشن کیوں نہیں لڑا، اس کے پیچھے کیا فلسفہ تھا کہ سنی اتحاد کونسل کے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں،جسٹس باقر نجفی نے کہاکہ کبھی کہتے ہیں یہ سنی اتحاد کے امیدوار ہیں، کبھی کہتے ہیں میرے امیدوار نہیں ہیں،آپ دونوں سیاسی جماعتوں میں کیا انڈر سٹینڈنگ ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ کہتے ہیں آپ کے امیدواروں نے پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا، تو پھر آپ کا حق دعویٰ کیسے بنتا ہے ، آپ کی دلیل کنفیوزنگ ہے۔جبکہ وکیل سنی اتحاد کونسل فیصل صدیقی نے کہاکہ نظرثانی درخواستیں منظور ہوتی ہیں تو تین طرح کی صورتحال ہو گی،پہلی تو یہ کہ الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے بحال ہو جائیں گے، دوسرا یہ کہ عدالت اقلیتی فیصلوں میں سے کسی فیصلہ پر پہنچ جائے،ان میں جسٹس جمال مندوخیل اور حسٹس یحییٰ آفریدی کے فیصلے ہیں، تیسرا یہ کہ عدالت فیصلہ کالعدم کرکے اپیلوں کی ازسرنوسماعت کرے۔انھوں نے یہ دلائل منگل کے روزدیے ہیں ،سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں گیارہ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی ، جسے سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا گیا۔سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آئے تو جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’آپ ریویو کی حمایت کر رہے ہیں یا مخالفت؟‘ جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا، ’آپ کو تو اس کی حمایت کرنی چاہیے تھی‘۔ جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا، ’ہمارا انداز محبت والا ہے، ہم ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔بعد ازاں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ بھی روسٹرم پر آ گئے۔ اس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ایک بار پھر فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا، ’آپ نظرثانی کو سپورٹ کر رہے ہیں یا مخالفت؟‘ جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’میں جسٹس مندوخیل کے فیصلے کو کسی حد تک سپورٹ کر رہا ہوں۔