ملٹری کورٹس کیس سپریم کورٹ انڈر ٹرائل نہیں، آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے جسٹس امین الدین

ملٹری کورٹس کی تشکیل کو تاریخی تناظر میں دیکھنا ہوگا، سیکشن ٹو ڈی کی وجہ سے پاکستان ٹوٹ گیا: لطیف کھوسہ‘سوشل میڈیا کو دیکھ کر اثر لینا ہے نہ اس سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے ہیں:جسٹس نعیم اختر 
ہماری طرف سے بے شک پارلیمنٹ آج سیکشن ٹو ڈی کو ختم کردے: جسٹس مندوخیل‘سقوط ڈھاکہ کی وجہ صرف ملٹری ٹرائلز نہیں تھے: جسٹس مسرت ہلالی ‘سماعت آج بھی ہوگی
 اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے فیصلوں کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے وکیل لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں  اس کیس میں سپریم کورٹ انڈر ٹرائل نہیں ہے، عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی جس دوران اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے۔سماعت کے آغاز پر اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ آج عزیر بھنڈاری نے دلائل دینے تھے، بھنڈاری صاحب سے بات کر لی ہے، آج میں دلائل دوں گا۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ لوگ آپس میں طے کر لیں، ہمیں اعتراض نہیں کہ دلائل کون پہلے دے کون بعد میں، اعتزاز احسن نے سلمان اکرم راجہ کے گزشتہ روز کے دلائل پر اعتراض کیا اور کہا کہ سلمان اکرم راجہ بھی میرے وکیل ہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے کل جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، میں نے سلمان اکرم راجہ کو ایسی کوئی ہدایت نہیں دی تھی، جسٹس منیب اختر کے فیصلے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اعتراض شاید صرف آرٹیکل 63 اے والے فیصلے کے حوالے پر ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جسٹس منیب کے فیصلے کے صرف ایک پیراگراف سے اختلاف کیا تھا، کل دلائل ارزم جنید کی جانب سے دیئے تھے اور ان پر قائم ہوں، میڈیا میں تاثر دیا گیا جیسے پتا نہیں میں نے کیا بول دیا ہے، آپ کے سوال کو سرخیوں میں رکھا گیا کہ عالمی قوانین میں سویلینز کے کورٹ مارشل کی ممانعت نہیں۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ جو سوال پوچھا تو وہ سب کے سامنے ہے، سوشل میڈیا نہ دیکھا کریں ہم بھی نہیں دیکھتے، سوشل میڈیا کو دیکھ کر نہ اثر لینا ہے نہ اس سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا کو بھی رپورٹنگ میں احتیاط کرنا چاہیے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے خلاف بہت خبریں لگتی ہیں بہت دل کرتا ہے جواب دوں لیکن میرا منصب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جواب دوں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی آزادی خلفائے راشدین کے دور میں بھی تھی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ خلیفہ وقت کے خلاف یہودی کا فیصلہ آتا تھا وہ وقت بھی تھا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آئین میں قانون سازی کرنے پر کوئی ممانعت ہے؟ جس پر لطیف کھوسہ نے مقف اپنایا کہ ملٹری کورٹس کیلئے انہیں 21 ویں ترمیم کرنا پڑی، سویلینز کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، ملٹری ٹرائل میں ججز اور ٹرائل آزاد نہیں ہوتا اس لیے 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات کی گئی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ مسائل پارلیمنٹ کے حل کرنے والے ہیں جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسمبلی میں بولنے لگتا ہوں تو مائیک بند کر دیا جاتا ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ آپ 26 ویں ترمیم منظور کرتے ہیں پھر ہمیں کہتے ہیں کالعدم قرار دیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسمبلی میں تو سارجنٹ ایٹ آرمز کے ذریعے اٹھوا کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا؟ جس پر لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا کام مخالفت کرنا تھا، اپنا کردار تو ادا کرتے، خیر اس بات کو چھوڑیں یہ سیاسی بات ہو جائے گی۔سماعت آج بھی جاری رہے گی