پنجاب یونیورسٹی میں تبدیلیاں

ڈاکٹر جاوید ملک

لکھنے والے لکھتے ہیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ رح کے استاد امام حماد بن سلیمان رح کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھا لیکن آپ کبھی ان کے گھر کی طرف پاؤں کر کے نہیں سوئے ، دوران درس اپنے استاد کے بیٹے کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے ، امام حماد رح کی بہن عاتکہ رح کہتی تھی کہ حضرت امام ابوحنیفہ ہمارے گھر کی روء دھنتے ، دودھ اور ترکاری خرید کر لاتے اور بہت سے کام کیا کرتے تھے۔
اسی استاد کے احترام نے ابوحنیفہ کو حضرت امام ابوحنیفہ رح بنا دیا۔
سوال یہ ہے کہ فی زمانہ بھی کوء ایسی مثال دی جا سکتی ہے ؟
کیا ہمارے طلباء￿  استاد کے احترام نام کی کسی بھی چیز سے واقف ہیں ؟
کیا حکومت میں بیٹھے لوگ بھی جانتے ہیں کہ معاشرے کو تاریکی کے گڑھے میں جانے سے کیسے بچایا جا سکتا ہے ؟
راقم کو یہ جان کر بیحد خوشی ہوء کہ پنجاب حکومت قوم کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے سفارشی و سیاسی کلچر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اہل اور قابل اشخاص کو سرکاری تعلیمی اداروں میں اعلی عہدوں پر لگا رہی ہے۔
ان تعیناتیوں کے ثمرات انسانی آنکھ سے بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ابھی دو دن پہلے ایک پروفیسر دوست سے ملنے ایگریکلچر سائنسز پنجاب یونیورسٹی لاہور جانا ہوا۔
مجھے تو پی یو بدلی ہوئی نئی پنجاب یونیورسٹی لگی۔
میں نے دوست سے اس نئی تبدیلی کا ذکر کیا۔
کہنے لگا۔
ڈاکٹر صاحب جب سے باکمال ، لاجواب ، مخلصی ، عاجزی و ایمان داری کی عمدہ مثال ، ستارہ امتیاز جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ وائس چانسلر بنے ہیں۔یونیورسٹی کے تو جیسے بھاگ جاگ گئے ہیں۔کئی سالوں بعد طلباء￿  کی سنی گئی ہے۔
میرے دوست کے بقول پنجاب یونیورسٹی بڑے نصیبوں والی ہے کہ اسے امریکہ اور لندن سے فارغ التحصیل جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ ایسا ریسریچر ، اعلی پایہ کا منتظم ، علم کا سمندر ، انسائیکلوپیڈیا آف بائلوجیکل سائنسز ،مخلتف یونیورسٹیوں میں اعلی عہدوں پر فائز ہو کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والا شاہکار میسر آیا ہے۔
میں تو یہ کہوں گا۔بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے۔مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ وی سی صاحب نے چارج سنبھالتے ہی آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں ایسے کام کئے ہیں جن کی پہلے نظیر نہیں ملتی ہے‘آپ نے یونیورسٹی میں ڈی جی سٹوڈنٹ افئیر اور سٹیٹ اینڈ سکیورٹی کا عہدہ تخلیق کر کے کیمپس کو جھگڑوں سے ہمیشہ کے لئے پاک کر دیا ہے۔‘آپ نے اولڈ کیپمس میں غیر قانونی مکینوں اور ہیلتھ سینٹر سے متصل زمین جس پر 37 خاندان پچھلے 70 سال سے قابض تھے واگزر کرا کر ایک نء تاریخ رقم کر دی ہے۔‘آپ نے یونیورسٹی میں مختلف نئے تدریسی پروگرامز شروع کر کے طلباء￿  کے دل جیت لئے ہیں۔‘آپ نے بجلی کے بلوں میں کمی کے لئے سولر پراجیکٹ کی تکمیل کرا کر ماہانہ کروڑوں روپے کی بچت کی ہے۔آپ نے یونیورسٹی ھاسٹلز میں غیر قانونی ائرکنڈیشنڈ اتروا کر لاکھوں روپے کی بجلی چوری کا خاتمہ کیا ہے۔
آپ نے یونیورسٹی کی آمدن میں ناصرف اضافہ کیا ہے بلکہ ملازمین ، اساتذہ و طلباء￿  کی فلاح و بہبود اور صحت عامہ کی بہتری کے لئے بھی متعدد اقدامات کئے ہیں۔‘آپ کے اعلی ویڑن کی عکاس پنجاب یونیورسٹی ما شا ء￿  اللہ‘کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں 28 درجہ بہتر ہو کر 570 سے 542 پر آ گئی ہے۔یہ کسی بھی یونیورسٹی کے اساتذہ ، طلباء￿  اور ملک کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے۔
اس کا کریڈٹ بلاشبہ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو جاتا ہے جنھوں نے میرٹ پر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ کا تقرر کیا ہے۔
اس احسن اقدام کی جنتنی تعریف کی جائے کم ہو گی۔خاکسار پنجاب یونیورسٹی میں انقلابی تبدیلیوں کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر ہر تعلیمی ادارے کا سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ کی طرح دوراندیش اور نیک نیت ہو تو ہمارا زوال پذیر معاشرہ ناصرف گل و گلزار بن سکتا ہے بلکہ ہم اقوام عالم میں سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین