ویب ڈیسک:مصر کے اسکندریہ میں ایک ایسا لائٹ ہاؤس ہے جہاں ایک نوکری کی پیشکش کی جارہی ہے جس کی سالانہ تنخواہ تقریباً 1 ارب روپے ہے۔
یہ پوزیشن دنیا کی سب سے مشکل ترین ملازمتوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اور اسے انجام دینے کے لیے غیر متوقع اور خوفناک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس نوکری کی ذمہ داری میں لائٹ ہاؤس کی روشنی کو ہمیشہ روشن رکھنا شامل ہے، جو سمندر کے انتہائی خطرناک علاقوں میں واقع ہے۔ اس لائٹ ہاؤس کا مقصد کشتیوں کو چھپی ہوئی چٹانوں سے بچانا ہے، جو 1900 کے قریب کیپٹن موریسیس کے جہاز کے ڈوبنے کی وجہ بنی تھیں۔کیپر کو سمندر کے بیچ میں تنہا رہنا پڑتا ہے، شدید طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور سمندر کی اونچی لہریں لائٹ ہاؤس کو کئی بار مکمل طور پر ڈھانپ دیتی ہیں، جس سے کیپر کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس نوکری میں سنگین تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ نوکری بہت کم لوگ ہی کرنا چاہتے ہیں۔یہ پوزیشن اس وقت دنیا کی سب سے پرکشش اور سب سے خوفناک نوکریوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں ایک طرف اعلیٰ تنخواہ ملتی ہے تو دوسری طرف زندگی کو خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔