بھارتی ریاست کرناٹک میں رکنِ اسمبلی امیش میٹی کی بھانجی ڈاکٹر انکیتا کے خلاف سرکاری کلینک سے طویل غیر حاضری اور بیک وقت نجی میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے معاملے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر انکیتا پر الزام ہے کہ وہ 3 مارچ سے ستمبر تک نمّا کلینک سے مبینہ طور پر غیر حاضر رہیں، تاہم اس دوران انہیں ماہانہ 70 ہزار روپے سے زائد تنخواہ کی ادائیگی جاری رہی۔حکام نے ڈاکٹر انکیتا کو 18 ستمبر کو دوبارہ انکوائری میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ حکام کے مطابق مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہونے کی صورت میں ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق حکام کی جانب سے مبینہ طور پر وصول کی گئی تنخواہ کی واپسی، محکمانہ کارروائی اور معاملہ کرناٹک میڈیکل کونسل اور نیشنل میڈیکل کمیشن کو بھیجنے سمیت مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے ضلعی حکام نے ڈاکٹر انکیتا کو مبینہ طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے، تاہم معاملے کی مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔