گدا گر خاتون کا چہلم ،80 ہزار افراد شریک

سوا کروڑ روپے خرچ کئے گئے،شرکا کی بکرے کے گوشت ، کئی اقسام کے کھانوں، مربہ جات سے تواضع کی گئی 
راہوالی (خصوصی رپورٹ)خانہ بدوش خاندان کی 90سالہ خاتون کا چہلم، بیٹوں نے پورے پاکستان سے 80ہزار کے قریب رشتہ داروں کو کھانے کی دعوت دے کر علاقہ کے بڑے بڑے سرمایہ داروں کو مات دیدی۔ مہمانوں کو صبح کا ناشتہ بکرے کے پائے حلوہ پوری چنے اور ہر قسم کے مربہ جات سے کرایا جبکہ شام کے کھانے کیلئے200کے قریب بکرے ذبح کئے گئے اور چاولوں کی سینکڑوں دیگیں ، تازہ نان کے لیے کئی تنور لگا کر شام کے کھانے میں بکرے کا گوشت، نان، چاول، گاجر اور سیب کے مربع جات اور مشروبات پیش کئے گئے۔ مہمانوں کیلئے پرائیویٹ مارکی کا انتظام کرواکر کرسیاں میز اور صوفے لگائے گئے۔ شرقی راہوالی محلہ سلیم پورہ کے معروف خانہ بدوش (کنگرہ)خاندان کے نمبردار محمد لطیف کنگرہ کی والدہ 90سال کی عمر میں وفات پاگئی تھیں ، چہلم پر تقریباً سوا کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ معلوم ہوا ہے کہ خاتون وفات سے چند روز قبل تک علاقہ میں بھیک مانگتی رہی۔ یاد رہے کہ بھیک مانگنے والے خانہ بدوشوں کا یہ خاندان جن کو کنگرے کہا جاتا ہے،65سال قبل راہوالی شرقی میں آکر رہائش پذیر ہوا تھا،آج بھی اس کنگرہ خاندان کا پیشہ بھیک مانگنا ہی ہے۔ انہوں نے راہوالی شرقی میں پلاٹ خرید کر مکان بنائے ہوئے ہیں لیکن ان کے صحنوں میں جھگیاں نصب کرکے اپنے کلچر کو زندہ رکھا ہواہے ۔ مرحومہ کا بیٹا محمد لطیف کنگرہ اسلام آباد میں پھولوں کا وسیع پیمانے پر کاروبار کرتا ہے۔