ویب ڈیسک: مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز آج پاکستان روانہ ہوں گے۔
نواز شریف اور مریم نواز نے اپنی صحت کی بنیاد پر لندن میں کچھ وقت گزارا تھا، اور اب دونوں رہنما پاکستان واپس لوٹنے کے لیے تیار ہیں۔
نواز شریف کا دورہ لندن
نواز شریف 26 اکتوبر کو لندن پہنچے تھے، جہاں انہوں نے امریکی اور جینیوا کا دورہ بھی کیا۔ لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے بانی پی ٹی آئی پر شدید تنقید کی۔ نواز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے ساتھ مل کر مسلم لیگ (ن) کے خلاف کیا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے اپنے دور میں کیا کارنامہ انجام دیا ہے کہ لوگ باہر نکلیں گے، اور ان کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے جس پر وہ فخر کر سکیں۔
مریم نواز کا بیان
لندن میں مریم نواز نے بھی میڈیا سے گفتگو کی، اور بتایا کہ وہ گزشتہ 8 ماہ سے مسلسل کام کر رہی ہیں، اور اس دوران انہیں پیراتھائرائیڈ کی تکلیف کا سامنا تھا، جس کا علاج سوئٹزرلینڈ یا امریکا میں ممکن ہے۔ مریم نواز نے اپنی صحت کے بارے میں کہا کہ وہ اپنے چیک اپ کے لیے جینیوا گئی تھیں، اور وہ تصدیق کر سکتی ہیں کہ انہیں گلے کا کینسر نہیں ہے، جیسا کہ بعض رپورٹس میں کہا گیا تھا۔
مریم نواز کی مظلومیت کا اظہار
مریم نواز نے کہا کہ وہ اپنے معاملے پر کبھی بھی مظلومیت کا اظہار نہیں کرنا چاہتی تھیں، مگر اب مجبوری کے تحت یہ ذکر کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی صحت کے بارے میں تمام تفصیلات دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں، تاکہ عوام کو حقیقت کا پتا چل سکے۔
پاکستان واپسی
اب نواز شریف اور مریم نواز اپنے علاج کے بعد پاکستان واپس روانہ ہو رہے ہیں، اور ان کے پاکستان پہنچنے پر ممکنہ طور پر سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔