جنیوا/نیویارک: اقوام متحدہ نے بھارتی نیوی کی جانب سے روہنگیا مہاجرین کو سمندر میں پھینکنے کے مبینہ واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے "غیر انسانی، ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی تشویش اور تحقیقات کا آغاز:
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن (UNHRC) نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ جنیوا میں ادارے کے ماہرین اس معاملے کی تفصیلات اکھٹی کر رہے ہیں تاکہ بھارتی نیوی کے کردار کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
نمائندہ خصوصی برائے میانمار کا سخت بیان:
اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے میانمار نے واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا:"یہ تصور کہ روہنگیا مہاجرین کو بحری جہازوں سے براہ راست سمندر میں پھینک دیا گیا، نہایت خوفناک اور افسوسناک ہے۔ یہ عمل انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔"
بھارت سے وضاحت اور اقدام کا مطالبہ:
اقوام متحدہ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:ان واقعات کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔بھارتی حکام اس بارے میں عالمی برادری کو واضح وضاحت پیش کریں۔ایسے انسانیت سوز اقدامات کو فوری طور پر روکا جائے۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی:
اقوام متحدہ کے مطابق روہنگیا مہاجرین کو اس طرح سمندر میں بے یارو مددگار چھوڑ دینا پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشنز اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔