صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے دورے میں اسرائیل کو سائڈ لائن کردیا:ملیحہ لودھی

صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے دورے میں اسرائیل کو سائڈ لائن کردیا:ملیحہ لودھی

اسلام آباد: اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ مشرق وسطیٰ کا دورہ اہم مگر پیچیدہ نوعیت کا تھا، جس میں کئی پہلو نمایاں رہے۔

ملیحہ لودھی نے کہا کہ بظاہر ٹرمپ کا دورہ میگا ڈیلز اور سفارتی سرگرمیوں پر مشتمل تھا، تاہم ان کے انداز سے لگتا ہے جیسے وہ ہر روز امریکی خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے:

حوثیوں سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا،
سعودی عرب میں ایران سے نیوکلیئر ڈیل کے قریب ہونے کا عندیہ دیا،
شامی صدر سے ملاقات کی اور ان پر سے پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا۔
ملیحہ لودھی نے واضح کیا کہ اس دورے میں ٹرمپ نے اسرائیل کو مکمل طور پر سائڈ لائن کر دیا، جو حیران کن امر ہے۔ انہوں نے مزید کہا:“ابھی تک غزہ میں جنگ بندی نہیں ہوئی، قحط کی صورتحال بدترین ہوچکی ہے اور اسرائیل کی بمباری جاری ہے، مگر صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو روکنے کے لیے کوئی واضح اقدام نہیں اٹھایا۔”
ان کے مطابق، ٹرمپ کی ترجیح خلیجی ممالک کو چین کے اثر و رسوخ سے دور رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سارے عمل میں فلسطینی مسئلہ اور غزہ کی انسانی صورتحال بدستور نظرانداز کی جا رہی ہے، جو عالمی سطح پر تشویشناک ہے۔سابق سفیر کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ پالیسی محض اقتصادی مفادات اور جیو اسٹریٹجک توازن پر مرکوز ہے، جبکہ انسانی بحران اور دیرینہ تنازعات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔