شامی حکومت کے نمائندوں اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان ترکیہ کی میزبانی میں ایک خفیہ براہِ راست ملاقات ہوئی، جو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان پہلا معلوم براہِ راست رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کا بنیادی مقصد شام اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں جانب موجود اختلافات پر بات چیت کرنا تھا۔ مذاکرات میں شامی انٹیلی جنس اور وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ حزب اللہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ ملاقات ترکیہ کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی دعوت پر ہوئی۔ بات چیت کے دوران شام کی جانب سے حزب اللہ سے سرحد پار اسمگلنگ روکنے اور شام، بالخصوص جنوبی علاقوں میں موجود اس کے مبینہ باقی ماندہ خفیہ نیٹ ورکس کے خاتمے میں تعاون کی درخواست کی گئی۔ایک شامی عہدیدار کے مطابق دمشق نے حزب اللہ کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ لبنان میں تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے لیے شام کی جانب سے کسی فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام اور حزب اللہ کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں اور دونوں فریق سرحدی سکیورٹی سمیت مختلف معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔