وزیراعظم کا کامرہ ایئربیس کا دورہ دوبارہ جارحیت پر بھرپور دفاع کرینگے شہبازشریف
ہم سب کی گردنیں اللہ کے حضور جھکی ہوئی ہیں‘دشمن کو پیغام دیا دوبارہ میلی سے دیکھا تو اس کو پاؤں تلے روند دیں گے ‘پاکستان کی تاریخ میں اس سے شاندار فتح پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئی‘ اس نے دنیا کی سوچ کو تبدیل کردیا
چند گھنٹوں میں اپنی بہادری اور دلیری سے شاہینوں نے وہ تاریخ رقم کی ہے قیامت تک دوست اور دشمن اس کو پڑھتے رہیں گے:وزیراعظم کا کامرہ ایئربیس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں سے خطاب
کامرہ‘اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جارحیت کے خلاف شان دار فتح حاصل کرنے پر مسلح افواج کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 5 نہیں بلکہ 6 جہاز مار گرائے ہیں اور جس طرح 3 رافیل کو نشانہ بنایا اْسے مودی اور دنیا قیامت تک یاد رکھے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کامرہ ایئربیس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں آپ کو اپنی طرف اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی طرف سے عظیم اور شان دار فتح پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرنے آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ابھی میں قوم کے عظیم ماؤں کے بیٹوں سے مل کر آیا ہوں جنہوں نے اس مختصر جنگ میں دشمن کے نہ صرف دانت توڑے بلکہ اس کے گھمنڈ اور غرور کو بھی اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت اور دلیری کے ساتھ خاک میں ملایا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے شان دار فتح پہلے ہمیں کبھی نصیب نہیں ہوئی اور اس شان دار فتح سے نہ صرف دنیا کی سوچ تبدیل کردیا بلکہ خطے اور پوری دنیا میں توازن کو تبدیل کردیا ہے، اس سے بڑی اللہ تعالیٰ کی ہم پر مہربانی کوئی نہیں ہوسکتی۔ پاک فوج کی اس شان دار کامیابی پر ہم سب کی گردنیں اللہ کے حضور جھکی ہوئی ہیں مگر دشمن کو پیغام دیا کہ دوبارہ میلی سے دیکھا تو اس کو پاؤں تلے روند دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے فرنٹ سے لیڈ کیا، ان میں سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو مبارک پیش کرتا ہوں، ایئرچیف بابرسندھو اور نیول چیف کو مبارک پیش کرتا ہوں کہ 10 مئی کو پوری دنیا میں ایک گونج اٹھی کہ یہ جنگ پاکستان نے اپنی تیکنیکی مہارت، اپنی تحقیق سے مہارت حاصل کی تھی اس سے جیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا دشمن جو آبادی کے لحاظ سے کئی گنا بڑا ہے اور حالیہ برسوں میں اس نے کئی سو ارب ڈالر خرچ کرکے دنیا کا سب سے جدید اسلحہ خریدا اور عالمی طاقتوں کو بتایا کہ اس خطے میں وہی تھانیدار اور وہی پولیس مین ہے لیکن 10 مئی کی شام کو شاہینوں نے اس تھانیدار کا بت پاش پاش کردیا اور رہتی دنیا تک اب وہ اس طرح غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوگا۔ اس مختصر جنگ کے چند گھنٹوں میں اپنی بہادری اور دلیری سے شاہینوں نے وہ تاریخ رقم کی ہے کہ قیامت تک دوست اور دشمن اس کو پڑھتے رہیں گے، 10 گھنٹوں سے کم وقت میں اس کو شکست دی اور پاکستان کا جھنڈا وہاں تک بلند کیا جہاں آج پوری دنیا احترام سے دیکھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے شاہینوں اور قوم کے عقابوں کو دل کی گہرائی سے مبارک پیش کرتا ہوں، پوری قوم یک جان دو قالب ہیں اور پوری قوم اس جنگ میں ان کی کامیابی کے لیے دعا گو تھے۔دریں اثناء یر اعظم ہائو س سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران میں پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی مضبوط یکجہتی اور حمایت پر صدر علیوف کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا‘وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن ایک بار پھر جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو بھرپور دفاع بھی کرے گا،بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات باعث تشویش ہیں۔ صدر علیوف کی مستقل حمایت پاکستانی عوام سے ان کی بے پناہ محبت اور پیار کا ایک اور مظہر ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی پر آذربائیجان کے برادر عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور دیرینہ دوستی کا اظہار ہوا ہے، جو ہمیشہ سچے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے علاقائی امن کے لیے بھارت کے ساتھ جنگ بندی مفاہمت پر اتفاق کیا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیاد ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت پر صدر علیوف کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ دوستی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔علاوہ ازیں ، وزیر اعظم کی زیر صدارت زرعی شعبے میں اصلاحات بارے اجلاس ہوا‘اس موقع پر وزیراعظم نے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہماری ترجیح ہے،زرعی خودکفالت کے حصول کے لئے زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، معیشت کی فوری ترقی کیلئے زرعی شعبے کی وسیع استعداد کو بروئے کار لائیں گے، اللہ تعالی نے پاکستان کو زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے۔ ملکی پیداوار بڑھانے کیلئے زرعی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جائے، پائیدار اور طویل مدتی زرعی صنعتی ترقی کی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں زراعت کے ساتھ ساتھ جنگلات کو بھی فروغ ملے جو کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئیانتہائی اہم ہیں۔وزیراعظم نے زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے متعلقہ فریقین کی مشاورت سے مربوط حکمت عملی بنانے اور اس سلسلے میں صوبوں سے مشاورت بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی، زرعی شعبہ کے حوالے سے نیشنل ایگری انوویشن پلان طلب کر لیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ زرعی بیجوں کے سرٹیفیکیشن کے نظام میں جاری اصلاحات میں تیزی لائی جائے، اعلی معیار کے بیجوں کے فروغ کے حوالے سے موثر لائحہ عمل تیار کیا جائے