پاکستان میں خواتین اور خواجہ سراؤں پر (صنفی بنیاد پر ہونے والے) تشدد و زیادتی کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
کل واقعات اور اضافہ
سال 2025 میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 7071 واقعات رپورٹ ہوئے۔گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ کیسز 34 فیصد زیادہ تھے۔واقعات میں قتل، خودکشی، اغوا، عصمت دری، غیرت کے نام پر قتل، ہراسانی اور تیزاب گردی جیسے جرائم شامل ہیں۔
واقعات کی تفصیل
قتل: 1546
اغوا: 1345
تشدد: 1169
زیادتی: 877
خودکشی: 680
زخمی کرنا: 449
ہراساں کرنا: 316
غیرت کے نام پر قتل: 284
تیزاب گردی: 41
ملزمان کی نوعیت
32٪ میں ملزمان متاثرہ افراد کے جاننے والے تھے۔
18٪ میں اجنبی افراد ملوث تھے۔
12٪ میں شوہر یا شریک حیات ملوث تھا۔
تقریباً 20٪ واقعات میں ملزم کی شناخت رپورٹ نہیں کی گئی۔
صوبائی تقسیم
پنجاب: 78٪
سندھ: 14٪
خیبرپختونخوا: 6٪
بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان: 2٪
اہم نکات
کچھ کیسز خواجہ سراؤں سے متعلق بھی شامل ہیں۔صنفی بنیاد پر تشدد کی سب سے زیادہ خطرناک عمر یا گروہ رپورٹ میں مخصوص نہیں، لیکن پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر واقعات میں ملزم متاثرہ کو جانتا تھا، جس سے سماجی اور گھریلو نوعیت کی تشدد کی تصویر سامنے آتی ہے۔