اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی، دین اسلام تمام نوع انسانی کیلئے امن و آشتی کا پیغام ہے:وزیراعظم

پاکستان میںغذائی قلت نہیں:شہباز شریف 
وزیراعظم کی خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خور و نوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی،برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت کردی
اسلام آباد:(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نے خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء￿  خور و نوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی ہدایت کردی۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر ملک میں غذائی صورتحال اور وافر اشیاء کی برآمدت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں موجود اشیاء خورونوش کے موجودہ ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اشیاء ِ خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی چیز کی قلت نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے سے خطے میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے، موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کو درکار اشیاء￿  خورونوش کی فراہمی اور انکے غذائی تحفظ کا خیال رکھا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت دی ہے کہ پاکستانی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیاء￿  خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ برادر خلیجی ممالک میں اشیاء￿  خورونوش کی برآمد کرتے وقت اعلیٰ معیار یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پی این ایس سی بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک میں اشیاء￿  خورونوش برآمد کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ میں برآمد کی وسیع استعداد موجود ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت کر دی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی، وزیرِ اعظم نے برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت کردی۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء￿  جام کمال خان، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ شعبے کی نجی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہنا تھا ۔ اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے،آج اسلامو فوبیا کے تدارک کا عالمی دن، دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کی مذمت میں عالمی آواز ہے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی اسلامو فوبیا کے تدارک پر قرارداد دنیا بھر میں مسلمانوں کیخلاف امتیازی اور نفرت انگیز سلوک کی عالمی سطح پر حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرتی عدم برداشت، بنیادی مذہبی آزادی اور باہمی اتحاد و رواداری جیسی اقدار کو کمزور کرنے کا باعث ہے، آج کا دن مسلمانوں کو مذہبی تعصب اور متشدد واقعات کے خلاف تخفظ فراہم کرنے کا عالمی احساس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے عقائد کی بنیاد پر انسانی حقوق میں تفریق نہیں کرتے بلکہ باہمی احترام و ایثار پر قائم ہوتے ہیں، پاکستان اسلامو فوبیا پر مبنی تمام طرزعمل اس کی تمام صورتوں کی مذمت کرتا ہے، اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اور بین الاقوامی قوانین کی نظر میں تمام انسان مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ دین اسلام تمام نوع انسانی کیلئے امن و آشتی کا پیغام ہے، اسلام کو انتہا پسند خیالات سے منسوب کرنا صریحاً لاعلمی ہے، پاکستان نے تمام بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ذمہ دارانہ انداز میں اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی پاکستان اقوام عالم کے مابین مذہبی رواداری اور مسلمانوں کے احساس تحفظ کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔