طاقت کا امتحان

سردار حیدر احمد علی 
کچھ واقعات صرف پولیس کی ڈائری میں درج نہیں ہوتے بلکہ قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان پر ہونے والی بحث محض ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتی بلکہ ریاست، قانون اور معاشرتی اقدار کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔ رضا دار سے متعلق سامنے آنے والا مقدمہ بھی اسی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے۔ اس کیس کے تمام حقائق ابھی عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے سامنے ہیں، اس لیے کسی شخص کو مجرم یا بے گناہ قرار دینا قبل از وقت اور غیر منصفانہ ہوگا۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس مقدمے نے پاکستان میں انصاف کے نظام، طاقت کے استعمال اور عوام کے اعتماد کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد اس اصول پر استوار ہوتی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ ریاست کی اصل طاقت اس کے وسائل، اسلحے یا سیاسی اثرورسوخ میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو عوام اپنے عدالتی نظام پر رکھتے ہیں۔ جب لوگوں کو یقین ہو کہ ایک عام مزدور، ایک کاروباری شخصیت، ایک سیاست دان اور ایک بااثر خاندان کا فرد قانون کی نظر میں برابر ہیں تو ریاست مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے تو پھر اداروں پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ ایسے مقدمات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے وقتی طور پر پورے ملک کی توجہ حاصل کی۔ چند دن تک ٹیلی ویڑن چینل خصوصی نشریات کرتے رہے، سوشل میڈیا پر بحث جاری رہی، اخبارات میں اداریے لکھے گئے، مگر کچھ عرصے بعد عوام کی توجہ کسی نئے واقعے کی طرف منتقل ہوگئی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ شور کتنا مچا، بلکہ یہ ہے کہ انصاف کہاں تک پہنچا۔ اگر ہر بڑا مقدمہ صرف خبروں کی زینت بن کر رہ جائے اور اس کا منطقی انجام سامنے نہ آئے تو معاشرہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

رضا دار کے مقدمے میں بھی یہی بنیادی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو قانون کو پوری قوت سے حرکت میں آنا چاہیے، اور اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ کسی بے گناہ کو غلط طور پر ملوث کیا گیا تو اس کی عزت اور حقوق کا تحفظ بھی اتنی ہی اہم ذمہ داری ہے۔ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ بے گناہ کو تحفظ فراہم کرنا بھی انصاف کا حصہ ہے۔

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ چند منٹ میں کسی بھی خبر پر لاکھوں تبصرے آ جاتے ہیں۔ بعض اوقات عوامی جذبات اتنے شدید ہو جاتے ہیں کہ عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی لوگ اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ یہ رجحان انصاف کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالتیں ثبوت، گواہوں اور قانون کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا اکثر جذبات اور افواہوں کے زیراثر چلتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام جذبات کے بجائے قانونی عمل پر اعتماد کریں۔

اس مقدمے نے ایک اور سوال بھی پیدا کیا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں بااثر افراد کے خلاف کارروائی واقعی آزادانہ انداز میں ہو سکتی ہے؟ اگر ریاست یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ قانون کسی دباؤ کے بغیر اپنا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ صرف ایک مقدمے کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پورے عدالتی نظام کی ساکھ مضبوط ہوگی۔ لیکن اگر کسی بھی مرحلے پر یہ تاثر پیدا ہوا کہ اثرورسوخ انصاف پر غالب آ گیا ہے تو نقصان صرف ایک کیس کا نہیں بلکہ ریاستی اعتماد کا ہوگا۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف میں تاخیر اکثر انصاف سے محرومی کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ برسوں تک مقدمات کا چلنا نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ پورے معاشرے میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔ جدید ریاستیں اسی لیے شفاف اور بروقت تحقیقات کو اہمیت دیتی ہیں تاکہ نہ صرف حقیقت سامنے آئے بلکہ عوام کا اعتماد بھی برقرار رہے۔

پاکستان کا نوجوان طبقہ آج پہلے سے زیادہ باخبر ہے۔ وہ صرف سرکاری بیانات پر انحصار نہیں کرتا بلکہ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے ریاستی اداروں پر پہلے سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر حساس مقدمے میں مکمل شفافیت اختیار کریں۔ خاموشی، ابہام یا غیر ضروری تاخیر افواہوں کو جنم دیتی ہے، جبکہ بروقت معلومات عوامی اعتماد کو مضبوط کرتی ہیں۔

اس مقدمے سے ایک سماجی سبق بھی ملتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں خواتین، غیر ملکی شہریوں اور ہر کمزور فرد کو یہ یقین ہو کہ اگر اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو ریاست بلاامتیاز اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ یہی وہ احساس ہے جو کسی ملک کی عالمی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے۔ دنیا صرف معاشی ترقی نہیں دیکھتی بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ ایک ریاست اپنے کمزور شہریوں اور مہمانوں کو کس حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون کا احترام صرف عدالتوں یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ سیاسی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام سب کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ میڈیا کا فرض ہے کہ خبر دے، مگر فیصلہ نہ سنائے۔ سیاست دانوں کا فرض ہے کہ اداروں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے قانونی عمل کا احترام کریں۔ عوام کا فرض ہے کہ افواہوں کے بجائے مصدقہ معلومات پر یقین کریں۔

آخرکار، رضا دار کا مقدمہ صرف ایک فرد یا چند افراد کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان کے عدالتی نظام، تفتیشی صلاحیت، ریاستی غیر جانبداری اور اجتماعی اخلاقیات کا امتحان بن چکا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب تحقیقات مکمل طور پر آزاد، شفاف اور قانون کے مطابق ہوں، اور عدالت کا فیصلہ بلاخوف و خطر نافذ کیا جائے۔

ریاستیں اپنے بیانات سے نہیں بلکہ اپنے فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ثابت ہوا تو یہ مقدمہ پاکستان میں انصاف کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے گا۔ لیکن اگر طاقت قانون پر غالب آ گئی تو نقصان صرف ایک مقدمے کا نہیں ہوگا بلکہ وہ اعتماد مجروح ہوگا جس پر ہر ریاست کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہ نہیں پوچھتی کہ الزام کس پر تھا؛ تاریخ یہ ضرور پوچھتی ہے کہ انصاف کس طرح کیا گیا