مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے ام صفا گاؤں کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بلڈوز کرنے کے واقعے نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں نے رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع گاؤں ام صفا میں کارروائی کرتے ہوئے پانی کی مرکزی پائپ لائن کو تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پورے گاؤں کو پانی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ اقدام مبینہ طور پر اس وقت کیا گیا جب علاقے میں نئی غیرقانونی آبادکاری کے لیے سڑک ہموار کرنے کا کام جاری تھا۔ اس دوران فلسطینی اراضی کو بلڈوز کرنے کے ساتھ ساتھ بنیادی شہری سہولت کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی انتہا پسند گروپ “ہل ٹاپ یوتھ” نے آبادکاری کے منصوبوں کو وسعت دینے کے لیے تقریباً 1.89 ملین ڈالر کی مالی معاونت مختص کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ترک خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے بیانات کے مطابق آبادکاروں نے نہ صرف زمینوں کو نقصان پہنچایا بلکہ گاؤں کو پانی فراہم کرنے والی بنیادی لائن کو بھی منقطع کر دیا، جس سے مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔
ام صفا کے رہائشیوں کے مطابق علاقے میں حالیہ عرصے کے دوران غیرقانونی آبادکاری اور حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث فلسطینی کسانوں کو اپنی زرعی زمینوں تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور انسانی بحران کی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔