اپوزیشن نے بجٹ عوام دشمن قراردیدیا یہ کس ارسطو نے کہا 280 روپے روزانہ کمانے والا غریب نہیں علامہ راجہ ناصر عباس

 موجودہ بجٹ پر حکومت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں :شیری رحمان‘بجٹ کو متوازن کہا جاسکتا ہے تاہم یہ عوامی بجٹ نہیں ہے ّسینیٹر شہادت اعوان
 معیشت زوال کی جانب جارہی ہے :محسن عزیز‘ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے اشرافیہ اور آئی پی پیز کو فائدہ پہنچایا گیا:نورعالم خان
اسلام آباد(آئی این پی ‘آن لائن)سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس    نے کہاہے  ملک ناکام ریاست کی طرف جا رہا ہے، کہا گیا ہے 8 ہزار 432 روپے ماہانہ آمدن والا شخص غریب نہیں، یہ کس ارسطو نے کہا  280 روپے روزانہ کمانے والا غریب نہیں۔سینیٹ  اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اس حساب سے بھی 7 کروڑ عوام غریب ہے، اس سال 2 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے آ گئے۔علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ موجودہ بجٹ کیا عوام کے سیاسی استقلال کی حفاظت کرتا ہے، کیا یہ بجٹ اغیار، کفار کے معاشی غلبے سے نکال سکتا ہے یا ان کی دلدل میں پھینک رہا ہے؟۔انہوں نے کہا ہے کہ کیا یہ بجٹ معاشی آزادی لے کر آیا ہے؟ یہ بجٹ ہمیں مزید غلام بنا رہا ہے‘ایوان بالا میں اپوزیشن اراکین نے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے جبکہ حکومتی اراکین نے بجٹ کو متوازن اور معیشت کو درست سمت کی جانب گامزن قرار دیا ہے  ۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہاکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے بجٹ بنایا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ملک کیلئے بہتر پیکیج سامنی آئے گا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بجٹ میں غریب عوام کیلئے کچھ بھی نہیں تھا ۔شیری رحمان نے کہا  موجودہ بجٹ پر حکومت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں یہ ایک متوازن بجٹ ہے جو مشکل حالات میں دیا گیا‘ سینیٹر شہادت اعوان نے کہا  ملکی حالات کے تناضر میں موجودہ بجٹ کو متوازن کہا جاسکتا ہے تاہم یہ عوامی بجٹ نہیں ہے‘قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث  میں حصہ لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے اشرافیہ اور آئی پی پیز کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات مہنگی ہو چکی ہیں جبکہ عوام کو سستا آٹا، سستا پٹرول اور سستی بجلی درکار ہے۔نور عالم خان نے کہا کہ مزدوری کے لیے سعودی عرب جانے والا محنت کش بزنس کلاس میں سفر نہیں کرتا، اس لیے عوامی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنائی جانی چاہئیں