وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے دورہ کوئٹہ کے دوران انسدادِ پولیو سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جہاں قومی و صوبائی کوآرڈینیٹرز نے انہیں پولیو کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بلوچستان میں رواں سال پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 2025 کے دوران پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی قیادت میں پولیو کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
وفاق و صوبے ایک پیج پر
سید مصطفیٰ کمال نے کہا:"وفاقی اور صوبائی حکومتیں پولیو کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر متحد ہیں۔ ہر قسم کے منفی رجحانات کو مسترد کریں اور بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔"انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے خلاف پوری قوم کو ایک ہونا ہوگا۔
پولیو ورکرز کو خراج تحسین
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ:"پولیو ورکرز ہمارے اصل ہیرو ہیں، ان کی قربانیوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے۔"انہوں نے علماء، اساتذہ اور بزرگوں سے اپیل کی کہ وہ پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں۔
پولیو ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے
سید مصطفیٰ کمال نے کہا:"پاکستان میں وہی ویکسین استعمال ہو رہی ہے جو دنیا کے دیگر ممالک میں دی جا رہی ہے، حتیٰ کہ افغانستان میں طالبان حکومت بھی پولیو مہمات چلا رہی ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ:"پولیو وائرس اب بھی ہمارے درمیان موجود ہے، غفلت نہ برتیں۔"
اپیل برائے والدین
وزیرِ صحت نے والدین سے اپیل کی کہ وہ:ہر پولیو مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں
بے بنیاد افواہوں سے گریز کریں اور بچوں کی محفوظ مستقبل کے لیے کردار ادا کریں۔