ویب ڈیسک: فلسطینی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فلسطینی مزاحمت کے ساتھ مضبوط اتحاد کی علامت قرار دیا ہے۔
عرب و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، القسام بریگیڈز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ:"ہم ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ان کے دفاع کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔"
ایرانی شہداء کو خراجِ عقیدت
بیان میں ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی کمانڈرز اور شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور فلسطینی کاز کی حمایت پر ایرانی قیادت کے کردار کو "تاریخی اور اہم" قرار دیا گیا۔
ایران کے حملے پر حماس کا ردعمل
حماس نے ایران کی جوابی کارروائی کو اسرائیل کے لیے ایک "زبردست جھٹکا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ:"غزہ کے عوام ان طاقتور حملوں کو فخر سے دیکھ رہے تھے، جنہوں نے اسرائیل کے اندر تباہی مچائی۔"بیان کے مطابق، ایران کے یہ اقدامات نہ صرف اسرائیل کو جواب دینے کی اہلیت ظاہر کرتے ہیں بلکہ خطے میں مزاحمتی تنظیموں کے درمیان بڑھتے ہوئے اتحاد کا بھی مظہر ہیں۔
اسرائیل پر عالمی ردعمل کی اپیل
بیان میں حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ:"اسرائیل کی طرف سے ایران پر ہونے والے فضائی حملے کے خلاف متفقہ عالمی موقف اختیار کیا جائے اور اسرائیل کے جرائم کا خاتمہ کیا جائے۔"
نیتن یاہو حکومت پر شدید تنقید
حماس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو "انتہا پسند" قرار دیتے ہوئے کہا کہ:"یہ حکومت خطے کو کھلی محاذ آرائی کی طرف لے جا رہی ہے اور اس کی جارحانہ پالیسیوں سے پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔"
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
حماس نے ایران پر حملے کو "وحشیانہ جارحیت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ:"یہ حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔"
پس منظر
اس بیان کو ماہرین مشرق وسطیٰ ایران اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے درمیان اتحاد کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، جو خطے میں اسرائیل کے خلاف ایک نئی مزاحمتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔