"نسیم شاہ ٹیم میں کیسے؟" تنویر احمد کا سوال

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر تنویر احمد نے قومی اسکواڈ میں نسیم شاہ کی شمولیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے سلیکشن کمیٹی پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔

ناقص کارکردگی کے باوجود سلیکشن پر اعتراض
تنویر احمد نے ایک مقامی اسپورٹس پلیٹ فارم کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نسیم شاہ کو پی ایس ایل 10 میں ناقص کارکردگی کے باوجود اسکواڈ میں شامل کیا گیا، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق، "اگر سلیکشن کا معیار میرٹ ہے تو نسیم شاہ کی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں بنتی۔"

سلیکشن پر مبینہ جانبداری کا الزام
سابق فاسٹ بولر نے دعویٰ کیا کہ نسیم شاہ کی سلیکشن کا تعلق اسلام آباد یونائیٹڈ سے وابستگی اور قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ کے اسی فرنچائز سے تعلق کے باعث ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ، "اگر کھلانا نہیں تھا تو منتخب کیوں کیا؟ نہ فٹنس ہے، نہ جذبہ، اور انجری کے مسائل الگ۔"

متبادل باصلاحیت بولرز کو نظر انداز کیا گیا
تنویر احمد نے کہا کہ ایسے باصلاحیت اور فارم میں موجود بولرز جیسے کہ میر حمزہ اور عباس آفریدی کو نظر انداز کیا گیا۔ "میر حمزہ نے پی ایس ایل میں بہترین بولنگ کی، لیکن انہیں سلیکٹ نہیں کیا گیا۔ عباس آفریدی کو بھی صرف اس وقت شامل کیا گیا جب وسیم جونیئر زخمی ہو گئے۔"

نسیم شاہ کی پی ایس ایل کارکردگی
اعداد و شمار کے مطابق، نسیم شاہ نے پی ایس ایل 10 میں 10 میچز میں صرف 9 وکٹیں حاصل کیں، جب کہ ان کا اکانومی ریٹ 9.30 رہا، جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں خاصا مہنگا سمجھا جاتا ہے۔

آئندہ سیریز کا منظرنامہ
یاد رہے کہ پاکستان ٹیم جولائی میں بنگلہ دیش کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کا امکان رکھتی ہے، جس کا حتمی اعلان بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے متوقع ہے۔ اس کے بعد اگست میں سلمان آغا کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کے خلاف امریکہ میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جائے گی۔