سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
فضائی توازن کی نئی بساط میں اس وقت دنیامیں محض پانچ اقوام کے پاس ایسے طیارے موجود ہیں۔امریکاکے ایف22ریپٹراورایف 35،روس کاایس یو57،اورچین کے جے 20اورجے35ہیں۔ان کے بعدکی قطارمیں برطانیہ،اٹلی،جاپان،ترکی،فرانس،جرمنی اوراسپین کے تیارکردہ طیارے ہیں جوابھی تیاری کے مراحل میں ہیںجیسے ’’ٹیمپسٹ‘‘ ،’’ایف سی اے ایس‘‘اور’’کے اے اے این‘‘لیکن پاک چین کے اشتراک سے بنے طیاروں نے حالیہ پاک وہندکی جنگ میں جونمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،اس کے بعدپاکستان کی فضائی کارکردگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکنیکی مہارت نے بھی اپنالوہامنوالیاہے۔
عالمی میڈیاکے مطابق پاکستان نے جہاں میدان جنگ میں فتوحات حاصل کی ہیں وہاں کامیاب سفارتی کوششوں سے میدان مارلیاہے جس کی واضح مثال جے35،ایچ کیو19، کے جے 500کے حصول اورقرضوں میں نرمی کی شرائط سے ملتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت چین سے مؤخرادائیگی جیسے معاملات فقط فوری عسکری فائدے نہیں بلکہ ایک طویل المیعادحکمت عملی کی علامت ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں عسکری فیصلے،اقتصادی وسعت،اورسفارتی بصیرت ایک مثلثی توازن میں داخل ہوچکے ہیں۔یہ کامیابیاں اس امر کی بھی غمازہیں کہ پاکستان اب سفارت کاری کوفقط بیانات تک محدودنہیں بلکہ3.7ارب ڈالرقرض کی موخرادائیگی بھی پاک چین دوستی تعاون کی ایک علامت ہے،یہ وہ کامیابیاں ہیں جوصرف مذاکراتی میزپرممکن ہوئیں،میدان جنگ میں نہیں۔ موجودہ حکومت کے یہ سفارتی اقدام اسے معاہدات،نظام اوراس سے کہیں بڑھ کردفاعی بندوبست تک لے گیا ہے۔پاکستان نے اب یہ فیصلہ کرلیاہے کہ وقتی ضرورت کواہمیت دیتے ہوئے دیرپاپالیسیوں پرعملدرآمدضروری ہے اوریہ نئی پالیسی کی پہلی قسط ہے جس میں تلوارکی دھاراورقلم کی نوک،دونوں شریک ہیں۔
جب پاکستان نے چینی دفاعی سامان خریدنے کاعندیہ دیا،توپاکستان کی چینی اسلحہ میں گہری دلچسپی نے چینی معیشت میں زبردست قسم کی جنبش پیداکردی بلکہ بیجنگ کی دفاعی صنعت ’’ایوک‘‘میں زندگی کی لہردوڑگئی۔یہ اقتصادی جھٹکادراصل ایک سیاسی ارتعاش تھا۔گویاپاکستان کی عسکری پسندیدگی نے چین کی اسٹاک مارکیٹ کے بازارِحصص کو جھنجھوڑڈالابلکہ جھومنے پرمجبورکردیااور حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعداقوام عالم کے کئی ممالک نے مغربی اسلحہ سے مشرق کے اسلحہ کوخریدنے کیلئے انتہائی سنجیدگی سے دلچسپی لیناشروع کردی ہے
۔ جب ایوک شینیینگ ایئرکرافٹ کمپنی کی قیمتوں میں9.3اضافہ ہوا،تواس کے پیچھے فقط ایک معاشی حقیقت نہیں،بلکہ ایک عالمی اعتمادکی جھلک تھی،یہ سرمایہ دارانہ دنیاکاوہ لمحہ تھا جب جنگی تیاری نے معیشت کونئی روح بخشی اورچینی اسلحہ اورجہازوں کی سٹاک ویلیومیں اضافہ دیکھنے کوملا۔چینی اسلحہ سازکمپنی ایوک کے حصص میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ دفاع صرف میدان جنگ کامعاملہ نہیں،بلکہ بازارِمعیشت کی دھڑکن بھی ہے۔
اگرچہ چہ مگوئیاں برسوں سے جاری تھیں،مگرپاکستان کی باضابطہ لب کشائی،جوایک نئے دورکے آغازکاپتہ دیتی ہے،پاکستانی حکومت کی پہلی باضابطہ تصدیق نے ان افواہوں کو ایک رسمی شکل دیتے ہوئے اپنے قومی عزم کااعلان کرتے ہوئے فیصلہ سنادیاکہ ہم نے خاموشی کوترک کرکے اپنی ملکی دفاعی تیاری کوترجیح دی ہے اورہم وطنِ عزیزکیلئے ہرقسم کی جدید تیاری کواولیت اور فوقیت دیتے ہوئے سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حصول کواپنی منزل قراردے دیاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخرسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین ان طیاروں میں خاص کیابات ہے؟سٹیلتھ ٹیکنالوجی کیوں ضروری ہے؟دنیاکی جنگیں اب میدانِ کارزارمیں نہیں بلکہ اسکرینوں اورسینسرزپرلڑی جارہی ہیں۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی دشمن کی آنکھ میں دھول جھونکنے کا فن ہے۔جس کے پاس یہ صلاحیت نہیں،وہ گویارات کے اندھیرے میں چراغ جلائے جنگ لڑنے نکلے،بے وقت،بے فائدہ،اورخطرناک۔یہ سوال فقط تکنیکی تجسس نہیں،بلکہ اس عہدکااستفسارہے جس میں جنگ زمینی نہیں رہی۔یہ طیارے دشمن کی آنکھ سے اوجھل، اس کے ریڈارسے پوشیدہ،اوراس کے دماغ سے پہلے حملہ آورہوتے ہیںگویاہواسے باتیں کرتے ہیں،لیکن دشمن کوسننے بھی نہیں دیتے۔ جدیدجنگ میں کامیابی کارازچھپنے اور دیکھنے کی طاقت میں ہے۔جودکھائی دے،وہ ماراجائے۔سٹیلتھ اسی فلسفے کاعملی اظہارہے۔
دنیامیں صرف تین ممالک امریکا،روس،اورچین ایسے ہیں جنہوں نے اس نایاب ٹیکنالوجی کوعملی جامہ پہنایا۔یہ وہ اقوام ہیں جونہ صرف عسکری برتری رکھتی ہیں،بلکہ عالمی سیاست میں بھی اونچابولتی ہیں۔مستقبل میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کیلئے برطانیہ،یورپ،اورترکی کی کاوشیں بھی منظرعام پرآرہی ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ،جاپان، اٹلی مستقبل کے طیارے’’ٹیمپسٹ‘‘کی تیاری پرکام کررہے ہیں اورفرانس،جرمنی،اسپین مستقبل کے ایف سی اے ایس طیاروں کی تیاری کیلئے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے ہیں اور مسلمان ملک ترکی بھی’’کان‘‘نامی طیارے کی تیاری میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔یادرہے کہ ترکی واحدمسلمان ملک ہے جس کے تیارکردہ ڈرونزکی بڑی تعدادکے خریدار روس اورچین ہیں۔گویااس طرح مستقبل کی جنگوں کی تیاری میں آنے والی صدی کی فضائی شہنشاہی کی بنیادیں ڈالنے کاعمل جاری ہے۔
آنے والے وقتوں میں جنگ کامطلب ہوگافضا کی وہ خاموش آندھی جوکسی کی آنکھ کونظرنہ آئے مگربستی اجاڑجائے۔پاکستان جیسے ملک کیلئے ایسی ٹیکنالوجی کاحصول محض عسکری نہیں،بلکہ قومی سلامتی،تہذیبی وقار،اورخودانحصاری کی علامت ہے۔جب مکار دپڑوسی ہرقسم کی جارحیت کیلئے متکبرانہ اندازمیں دہمکیاں دیکرمرعوب کرنے کی احمقانہ کوششوں میں مبتلاہوتوان حالات میں ضروری ہوگیاہے کہ پاکستان بھی موجودہ ففتھ جنریشن طیاروں کے نہ صرف حصول بلکہ چین کے اشتراک سے اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کارخ کرے۔اس وقت امریکاکے ایف35لائٹننگ،ریپٹراورایف22،روس کاایس یو57ففتھ جنریشن طیاروں کی تمام خوبیوں کا دعویٰ کررہے ہیں لیکن چین کاجے35اورجے20طیارے جونسبتاً نئے ہیں،مگرانتہائی خطرناک اورقیمت میں معتدل،یعنی موزوں ہیں اورپاکستاان جے35میں اپنی دلچسپی لے رہاہے تاکہ مستقبل میں چین کے اشتراک سے جے ایف17 تھنڈر کی طرح اسے بھی خودتیارکرکے خودکفالت کی طرف قدم بڑھاسکے۔
ففتھ جنریشن اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین طیارے یہ فقط دفاع نہیں،بلکہ نکتہ آغازہے جوپیشگی حملہ کی صلاحیت رکھتے ہوئے دشمن کے جہازوں کواڑان بھرتے ہی دبوچ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ کم خرچ کے ساتھ زیادہ نفسیاتی دباؤکی تکنیک سے دشمن کی مکمل بصارت پرپردہ ڈال کران کوتباہ کرنے پرقدرت رکھتاہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی شاہینوں کی یہی پالیسی نے اس کے رافیل اورروسی طیاروں کواپنے ملکی حدودسے ہی بھارتی سرزمین پرتباہ کرکے دنیاکودنگ کردیاتھا۔اب سٹیلتھ کی ضرورت اس لئے ضروری ہوگئی ہے کہ جدید جنگ میں جودکھائی دیا،وہ ماراگیا۔جوچھپارہا،وہ جیتا۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی،گویاغارِحراکی خلوت کی مانند،خامشی سے اپنی تاثیردکھاتی ہے۔
مستقبل کی فضائی جنگ گویاایک ایسی ہولناک جنگ ہوگی جہاں پائلٹ ہویانہ ہو،مگرطیارہ خوداپنے ہدف کونہ صرف تلاش کرکے مار گرانے کی صلاحیت رکھتاہوگابلکہ دشمن کے راڈار کوبھی چکمہ دیکرآنکھوں سے اوجھل ہوکراپنے ٹارگٹ کوتباہ کرکے واپس اپنی منزلِ مقصودپرلوٹ آئے گا۔فضامیں خاموشی ہوگی،مگرزمین پرشوربرپاہوگا۔دشمن کوپتہ بھی نہ چلے گا، اوراس کادفاعی نظام ناکارہ ہو چکاہوگا۔مستقبل کی جنگ کی جھلک کااس بات سے اندازہ لگالیں کہ مصنوعی ذہانت،بغیرپائلٹ کے جہاز،اورنیٹ ورک پرمبنی لڑائی ہوگی گویامستقبل کی جنگ میں فضاخاموش ہوگی،مگرموت کی آہٹ تیزترہوجائے گی اورپتہ بھی نہ چل سکے گاکہ ساراعلاقہ پلک جھپکتے ہی راکھ کامنظرپیش کررہاہوگا۔
پاکستان کایہ فیصلہ کہ وہ جے35جیسے جدید طیارے حاصل کرے،ایک نئی دفاعی حکمت عملی کی بنیادہے،یہ فقط عسکری طاقت نہیں،بلکہ سفارتی حکمت،اقتصادی فائدے اورعالمی سیاسی نقشے پرمقام حاصل کرنے کی کاوش ہے۔آنے والاوقت بتائے گاکہ پاکستان اس فضائی دوڑمیں محض تماشائی رہے گایامعرکہ آرائی کاعلمبردار۔
یادرکھیں جب قوموں کی فکری سطح بلندہوجائے،توان کی توپیں بھی تدبرسے گولہ داغتی ہیں۔پس،وقت آگیاہے کہ ہم فضاؤں کی جنگ کومحض جنگ نہ سمجھیں،بلکہ تہذیبوں کے
مکالمے کاایک باب جانیں۔