روبینہ شاہین
کروڑوں اربوں سال پہلے بنی یہ دنیا ہمیشہ ہی جنگ کے خطرات میں گھری رہی ہے مدار کے گرد گھومتی رہتی ہے اور وقت کی سو ییاں اس کو اس نکتے تک لے آئیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی جنگوں سے اب تباہ کر دینے والی جنگ کے دھانے پر ہم کھڑے ہیں ہونا تو بالکل وہی ہے جو خدا تعالی کی ذات چاہے گی بیشک ہر بات لوح کتاب میں لکھ دی گئی ہے اور دنیا تو صرف ان معاملات کو طے کرتی ہوئی اپنا وقت پورا کرتی ہے کبھی قبیلوں کی جنگ کبھی علاقوں کی جنگ کبھی ملکی سطح پہ کی گئی جنگ اور اب عالمی جنگ وہ بھی تیسری اور اس آج کے ایٹمی دور میں جب کہ جنگ کے حالات دنوں سالوں اور مہینوں کے نہیں بلکہ صرف منٹوں اور سیکنڈوں میں رہ گئے ہیں اب صرف لوگ خوف کھاتے ہیں کہ کب ایٹم بم کی سو ییاں ہلیں گی اور کب یہ دنیا ملبے کا ڈھیر بن جائے گی ہم ایٹمی طاقت کو شائد مذاق سمجھ رہے ہیں مگر کیا ہمارے علم میں ہے کہ ایٹم کن مالیکولز سے مل کر تشکیل پاتا ہے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے
کھڑ کھڑ انے والی اور کیا ہے وہ کھڑ کھڑ ا نے والی جس دن لوگ پتنگوں کی طرح اڑ یں گے اور پھاڑ ایسے ہو جایں گے جیسے دھنکی ہوئی رویی
اگر ہم ارشاد باری تعالی کو مانتے ہیں تو غور کریں آج کی اس ایٹمی طاقت جو کہ انسان نے خود ہی اپنی بربادی کے لیے تخلیق کی ہے اگر یہ عالمی جنگ دنیا پر مسلط کی گئی تو شائد ہی دنیا میں زندگی کے آثار چیدہ چیدہ رہ جایں اور اربوں سال کی اس خوب صورت دنیا کے ذرے ہوا میں پتنگوں کی طرح بکھرے ہوے نظر آئیں قیامت کے اثرات نزدیک ترین ہیں اور گھڑ ی رب تعالی کے اختیار میں ہے اور حالات انسان پیدا کر رہا ہے کیا انسان اس بات کی اہمیت کو سمجھ پاے گا اور کروڑوں جانوں کے نقصان کو کو برداشت کر سکے گا کیا ہم ان شیطانی قوتوں کا مقابلہ کر پا یں گے ایٹمی طاقت کا مطلب صرف ایک خوف دلانا ہوتا ہے اس کا استعمال تباہی کی طرف لے جاتا ہے اگر اس ایٹمی جنگ کو دنیا پر مسلط کیا گیا تو آیندہ کئی صدیاں کوئی بھی صحت مند نسل دنیا میں پیدا ہوتی نظر نہیں آتی اس کا ایک تجربہ جاپان کے شہر ہیرو شیما اور ناگاساقی پر ہو چکا ہے جس کے بعد اب تک وہاں صحت مند بچہ پیدا نہیں ہو سکا کیا ہم قبر ستانوں پر راج کرنا چاہتے ہیں دنیا پر حکومت کرنے والی سب سے بڑی طاقت کیا قبرستانوں پر راج کرے گی اور کیا ہم خود کو خود ہی موت کے سپرد کر دیں گے ہمیں ختم کرنے کے لیے کسی باہر کی طاقت کی ضرورت نہیں پڑے گی ہندوستان جو کبھی ایک ملک تھا اور اب کئی حصوں میں بٹ چکا ہے تو کیا اب ایک لقمہ اجل بن جائے گا دوسری اقوام کے لیے کیا اس میں رہنے والے کبھی بھی یہ نہیں پہچان سکیں گے کہ ہمارا استمال کیا جا رہا ہے ہم روز بننے کو روز مٹانے میں لگے رہتے ہیں غزوہ ہند ہونی ہے اسلام کا راج ایک دن اس دنیا پر قایم ہونا ہے ابلیس کا یہ دعوی کہ وہ قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرے گا وہ بھی پورا ہو گا دنیا کو پورا کرنے والا اللہ اکبر صرف اسی کا نام رہ جانا ہے تو روز ایک ایسا دن کیوں چڑھتا ہے جس میں دنیا پر حکومت کرنے کے لیے خدا بننے کا خواب سجانے والے انسانوں کو خوف زدہ کرتے ہیں کیا وہ فرعون کا انجام نہیں جانتے جو زمین کا خدا بنا بیٹھا تھا اور جب خدا نے چاہا تو دریاے نیل میں ڈوب گیا اور پھر پانی نے بھی اس کو نہیں قبول کیا اور آج وہ دنیا کے سامنے نشان عبرت بنا دیا گیا ہے دنیا کے عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے اور قیامت اس کو زمین کی مٹی بھی نہیں قبول کرے گی تو ہم کس حکومت اور بادشاہت کے خواب خیال میں چلے جا رہے ہیں ایٹمی قوت اس قدر طاقت ور ہے کہ اگر ایٹم کی سو ییاں حرکت میں آ گئیں تو انسان کیا دنیا کی ہر چیز اپنے اپنے ایٹمی ذرات سے آزاد ہو جائے گی کسی کو زمین کی مٹی بھی نصیب میں نہیں ہو گی ہم سب مٹی کا ڈھیر بن جاییں گے اور فرمان باری تعالی بالکل سچ ہے کہ لوگ تنکوں کی طرح ہوا میں اڑیں گے اور پہاڑ ذرات بن جائیں گے پاک بھارت جنگ جو کہ غزوہ ہند میں بدل سکتی ہے سب سے تو بڑی بربادی اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گی تو اس جنگ میں یہاں رہنے والوں کو کیا ملے گا بیشک نبی کریم کی احادیث مبارکہ کے مطابق آج زمین میں انسانوں کے مابین وہ تمام نشانیاں موجود ہیں جو قیامت کی نشانیاں مانی جاتی ہیں اور ہم قیامت کی طرف سفر کر رہے ہیں پچھلے پچاس سال میں دنیا نے اپنی شکل اور ٹیکنا لوجی بہت تیزی سے بدلی ہے اور آج کا دور ہر میدان میں بہت آگے جا چکا ہے انسان کی پیدائش سے انسان کی موت تک اور کیمسٹری کی تمام گہرا یاں انسان جان چکا ہے مگر پھر بھی بے بس ہے کہ وہ موت پر قادر نہیں زندگی اس کے اختیار میں نہیں روح نہیں بنا سکتا ورنہ شداد نے تو جنت بھی بنا لی تھی مگر خدا کی قدرت کہ وہ اس میں قدم رکھنے پر قادر نہیں تھا خدا کا پیدا کردہ انسان بھول جاتا ہے کہ جس خالق نے اس کو اس دنیا میں پیدا کیا اور اتنا بڑا نظام کائنات تخلیق کیا وہ بھی صرف سات دن میں وہ جب چاہے اس کو لپیٹ لے گا پھر ہم کیوں نہیں ڈرتے اس دن سے جس کو قیامت کا دن کہتے ہیں اور بیشک ایک دن قایم ہونی ہے اور ہمارا جب حساب ہونا ہے ہم کیا جواب دیں گے خدا کرے یہ بات ان لوگوں کی سمجھ میں آ جائے جو دنیا پر حکومت اور بادشاہت کا خواب دیکھتے ہیں اور خدا کے نام کی جگہ صرف اپنا نام لکھنے کے خواہش مند ہیں اس کام کے لیے بیشمار انسان قربان کیے جا چکے ہیں مگر پھر بھی چند قدموں کے فاصلے پہ انسان خود بھی اسی مٹی میں شامل ہو جاتا ہے اللہ پاک اس کائنات کے ہر ذرے پر آسانیاں پیدا کرے اور جب تک یہ کائنات آباد ہے اس کو ہنستا بستا رکھے اور ہم سب کو اپنی عبادت کی توفیق عطاء کرے آمین