ٹوبیکو سیکٹر کی پیداوار اور سیل کو ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم سے مانیٹر کیا جائے گا، ٹیکسٹائل سیکٹر کی بھی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی
کارگو کی نگرانی کیلئے نیا ٹریکنگ سسٹم متعارف کروا دیا،آن لائن خرید و فروخت پر سیلز ٹیکس کی نگرانی بھی سخت کردی گئی ہے،ایف بی آرحکام
اسلام آباد(آئی این پی ) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر یکم جولائی سے ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم کے نفاذ میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام نے بتایا کہ انفورسمنٹ اقدامات نہ لینے کی صورت میں 700ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پڑتے، سگریٹ، سیمنٹ، پولٹری، مشروبات، کھاد اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی نگرانی بڑھائی جا رہی ہے، ٹوبیکو سیکٹر کی پیداوار اور سیل کو ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم سے مانیٹر کیا جائے گا۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں قائم سگریٹ کے کارخانوں کی نگرانی ہوگی، شوگر سیکٹر میں پیداوار کی نگرانی بہتر بنانے سے ٹیکس ریونیو میں 39 ارب روپے اضافہ ہوا، چینی کے شعبے میں پیداوار کی انڈر رپورٹنگ ہو رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بھی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی، سیلز ٹیکس ریونیو کو جی ڈی پی کے 5 فیصد کے مساوی تک لے جایا جائے گا۔ایف بی آر حکام کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ انفورسمنٹ اقدامات بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، نئے مالی سال 14 ہزار 131 ارب روپے کے ٹیکس ہدف میں 389 ارب روپے کے انفورسمنٹ اقدامات شامل ہیں جبکہ 312 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات بھی شامل ہیں۔دریں اثناء ایف بی آر نے کارگو کی نگرانی کے لیے نیا ٹریکنگ سسٹم متعارف کروا دیا۔ ای بلٹی کا نظام سیلز ٹیکس قانون کا حصہ بنانے کے علاوہ آن لائن خرید و فروخت پر سیلز ٹیکس کی نگرانی بھی سخت کردی گئی ہے۔ ای کامرس ٹرانزیکشنز پر 2 فیصد ٹیکس لاگوہوگا جبکہ کورئیر کمپنیوں کوبھی ٹیکس وصولی کا پابند بنانے کے لئے حکمت عملی پر کام شروع کر دیا گیاہے۔