بھارت کے شہر غازی آباد میں جائیداد کے تنازع پر 32 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر اپنے والد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا، پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ غازی آباد کے علاقے میں پیش آیا جہاں 52 سالہ ہری اوم چوہدری کو ان کے بڑے بیٹے نکہل نے مبینہ طور پر گولیاں مار کر قتل کیا۔ پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزم اسلحے سمیت فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق مقتول ہری اوم چوہدری علاقے کے بااثر اور خوشحال کسانوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے پاس زرعی زمین کے علاوہ دہلی میرٹھ روڈ پر ایک مارکیٹ بھی موجود تھی، جبکہ ان کے اثاثوں کی مالیت تقریباً 150 کروڑ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق نکہل کو پہلے ہی جائیداد میں مارکیٹ کی کچھ دکانیں اور تقریباً 25 بیگھا زمین دی جا چکی تھی، تاہم وہ مزید جائیداد اپنے نام منتقل کروانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی معاملے پر باپ بیٹے کے درمیان اکثر اختلافات رہتے تھے۔پولیس کے مطابق واقعے والی رات نکہل مبینہ طور پر نشے کی حالت میں گھر پہنچا، جہاں والد نے اسے ڈانٹ دیا۔ اس دوران دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جو شدت اختیار کر گئی، جس کے بعد نکہل نے مبینہ طور پر پستول نکال کر فائرنگ کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ہری اوم چوہدری شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ مقتول کے جسم پر ابتدائی معائنے کے دوران 4 سے 6 گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔تحقیقاتی حکام کے مطابق نکہل کے ماضی میں بھی تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق 2018 میں بھی نکہل نے مبینہ طور پر اپنے چھوٹے بھائی نیشو پر فائرنگ کی تھی، جس کی تفصیلات بھی دوبارہ جانچی جا رہی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔