لکھنؤ: بھارتی شہر لکھنؤ میں پیش آنے والے ڈرم قتل کیس کی ہولناک تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اکشَت پرتاپ سنگھ نے رقم کی چوری اور شراب کے لائسنس کے تنازع پر اپنے والد منویندر سنگھ کو گولی مار کر قتل کیا اور بعد ازاں لاش کے ٹکڑے کر کے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 19 فروری کی رات، منویندر سنگھ گھر پہنچے تو تجوری سے 50 لاکھ روپے کی نقدی غائب تھی۔ پوچھ گچھ پر پتہ چلا کہ یہ رقم اکشَت نے شراب کے لائسنس کی تجدید کے لیے چرائی تھی۔ اس پر دونوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس میں والد نے بیٹے کو تھپڑ مارا اور رائفل تان دی۔پولیس کے مطابق، اسی رنجش میں اکشَت نے رات تقریباً 4 بجے اپنے والد کے کمرے میں جا کر رائفل سے انہیں گولی مار دی۔ بعد ازاں لاش کو ایک کمرے میں منتقل کرکے مشین سے ٹکڑے کیا گیا، ہاتھ، پاؤں اور سر الگ کیے گئے اور جسم کے حصے لکھنؤ کے مضافاتی علاقے سدراؤنا کے قریب دو دن میں پھینکے گئے۔
لاش کو نیلے ڈرم میں ڈال کر سلیپنگ بیگ میں لپیٹا گیا اور بدبو کم کرنے کے لیے روم فریشنر استعمال کیا گیا۔ 22 فروری کو ڈرم کو ٹھکانے لگانے کی کوشش اس وقت ناکام ہوئی جب شراب کی دکان کا اکاؤنٹنٹ گھر آ گیا۔چشم دید گواہ، ملزم کی بہن، نے بتایا کہ اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اکشَت نے والد کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروائی تاکہ پولیس کو گمراہ کیا جا سکے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ قتل سے چند دن قبل اکشَت نے زیورات اور نقدی چوری کر کے الزام ملازمہ پر ڈال دیا تھا۔ ہمسایوں کے مطابق، اکشَت منشیات کا عادی بھی تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق، عدالت لے جاتے وقت اکشَت نے اپنے والد کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور کسی اور اہلِ خانہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔