بالی ووڈ اور پنجابی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار دلجیت دوسانجھ کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اپنی نئی فلم ’ستلج‘ میں کام کرنے کے لیے صرف ایک روپے کا علامتی معاوضہ وصول کیا۔
فلم کے ڈائریکٹر ہنی ٹریہن نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ دلجیت دوسانجھ نے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کا کردار ادا کرنے کے لیے عام معاوضہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے مطابق دلجیت اس کردار اور کہانی سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیت کا کردار ادا کرنے کے لیے پیسے لینا مناسب نہیں ہوگا۔ہنی ٹریہن کے مطابق جب دلجیت نے فلم کا اسکرپٹ پڑھا اور جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی کے بارے میں جانا تو وہ جذباتی ہو گئے۔ ڈائریکٹر نے بتایا کہ انہوں نے اداکار کو معاوضہ لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم دلجیت نے صرف معاہدے کی قانونی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک روپے لینے پر رضامندی ظاہر کی۔ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ دلجیت دوسانجھ نے فلم کی شوٹنگ کے دوران بھی مکمل تعاون کیا اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے پروجیکٹ کے باوجود کبھی شکایت نہیں کی۔ ہنی ٹریہن نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں دلجیت اس کردار کے لیے بہترین انتخاب تھے۔
فلم ’ستلج‘ انسانی حقوق کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی ہے اور اس میں دلجیت دوسانجھ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فلم ریلیز کے بعد بھی خبروں میں رہی، کیونکہ اسے او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے مختصر مدت کے بعد ہٹا دیا گیا، جس کے بعد اس حوالے سے بحث مزید بڑھ گئی۔دلجیت دوسانجھ کا یہ فیصلہ مداحوں میں خاصی پذیرائی حاصل کر رہا ہے، جہاں کئی لوگ اسے ایک حساس کردار کے لیے ان کی لگن اور احترام کی مثال قرار دے رہے ہیں۔