جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۂ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن کے دوران ایک اہم دہشتگرد حمید اللہ کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حمید اللہ پاکستان میں دہشتگردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث تھا۔تاہم حیران کن طور پر، ہلاک دہشتگرد کے خاندان نے اس کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ والد کا کہنا تھا کہ "میرے بیٹے کے اعمال نہ صرف غیر قانونی تھے بلکہ اسلام اور ہمارے عقیدے کے بھی خلاف تھے۔ میں حکومت پاکستان سے گزارش کرتا ہوں کہ اس کی لاش کو ختم کر دیا جائے۔"حمید اللہ کے بھائی نے بھی اپنے موقف میں واضح کیا کہ اس کے اقدامات اسلامی روایات کے منافی تھے۔یہ انکار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کے شہری شدت پسندی سے مکمل لاتعلقی اور دہشتگردی سے شدید نفرت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والے دہشتگرد گروہ فتنۂ الخوارج اور فتنۂ الہندستان ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، مگر پاکستانی عوام اور سیکیورٹی ادارے ان کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔ورثا کی جانب سے لاش لینے سے انکار شدت پسندی سے ناپسندیدگی کا کھلا پیغام ہے۔ یہ ایک انتباہ ہے اُن نوجوانوں کے لیے جو دہشتگردی کے راستے پر گمراہی کی جانب بڑھ رہے ہیں، کہ اس کا انجام صرف تباہی اور معاشرتی رسوائی ہے۔پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان ملک کو ہر قسم کی انتہا پسندی سے پاک کرنے کے لیے یکجا ہیں اور دہشتگردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔