پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی وزرائے خارجہ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش سلامتی، سیاسی اور اقتصادی چیلنجز پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
انہوں نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ریاستی دہشتگردی، پاک-چین تعلقات، سی پیک، اور ایران پر اسرائیلی جارحیت جیسے حساس عالمی معاملات پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف پیش کیا۔
کشمیر اور یکطرفہ اقدامات پر مؤقف:
اسحاق ڈار نے کہا کہ:"اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازعہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں غیرقانونی اور ناقابل قبول ہیں۔ ایسی کوششوں کی بین الاقوامی سطح پر بھرپور مذمت ہونی چاہیے۔"انہوں نے واضح کیا کہ پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ٹھوس تحقیق یا ثبوت کے پاکستان پر ڈالنا افسوسناک ہے، اور اس کے نتیجے میں خطے میں دو ایٹمی طاقتیں ایک بڑے تصادم کے دہانے پر پہنچ گئیں، تاہم پاکستان نے ذمہ دارانہ اور محتاط طرز عمل اپنایا۔
خطے میں امن و استحکام:
نائب وزیراعظم نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کے بغیر مستقل اور پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا:"22 اپریل کے بعد کے واقعات نے یہ حقیقت مزید واضح کی ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے طاقت کا غیر ذمہ دارانہ استعمال خطے کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے۔"
افغانستان کے حوالے سے:
اسحاق ڈار نے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کو سب کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ:"SCO افغانستان رابطہ گروپ کی بحالی، تعاون کے لیے ایک مؤثر اور نتیجہ خیز پلیٹ فارم بن سکتی ہے۔"
دہشتگردی اور ریاستی تشدد:
انہوں نے کہا:"دہشتگردی، چاہے وہ ریاستی سطح پر ہو یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے، انسانیت کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے۔ ہمیں اسے سیاسی ہتھیار بنانے کی روش ترک کرنی ہوگی اور اس کے بنیادی اسباب کے حل کے لیے باہمی تعاون کی راہ اپنانی ہوگی۔"
اقتصادی ترقی، CPEC اور بیلٹ اینڈ روڈ:
اسحاق ڈار نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کو فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے SCO کے تجارتی فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا:"SCO کے رکن ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں لین دین کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔ ہم SCO کے متبادل ترقیاتی فنڈنگ میکانزم کے قیام کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔"
ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت:
نائب وزیراعظم نے خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی اور امریکی مداخلت کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی:"ہم نے ایران کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت اور امریکہ کے ممکنہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایسے غیرقانونی اقدامات جو SCO کے رکن ممالک کے خلاف ہوں، ہرگز قابل قبول نہیں۔"
"شنگھائی اسپرٹ" کے فروغ کا عزم:
آخر میں اسحاق ڈار نے SCO کو خطے کی ترقی، امن، استحکام اور باہمی روابط کے لیے ایک مؤثر فورم قرار دیتے ہوئے کہا:"پاکستان ‘شنگھائی اسپرٹ’ کی اقدار کی روشنی میں خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے SCO کے پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔"