محمد ندیم بھٹی
سیالکوٹ پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو میرے مشاہدے کی روشنی میں سال 2025 کے پہلے پانچ ماہ میں عوامی تحفظ، جرائم کی بیخ کنی اور قانون کی عملداری کے میدان میں جو کامیابیاں حاصل کی گئیں، وہ نہ صرف مثالی ہیں بلکہ دیگر اضلاع کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بھی بن چکی ہیں۔ یہ کامیابیاں روایتی پولیسنگ کے بجائے سائنسی، جدید اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کے باعث ممکن ہوئیں، جہاں پولیسنگ کو صرف وردی، گشت یا ایف آئی آر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اس میں احتساب، خدمت، فلاح، ٹیکنالوجی، اور انصاف کی جامع روح شامل کی گئی۔
سیالکوٹ پولیس کو ڈیجیٹل اور انٹیلیجنس بیسڈ فورس میں تبدیل کرنے کا عمل نہایت مؤثر انداز میں جاری رہا۔ فیلڈ ٹیموں کو باڈی کیمروں اور ڈرونز سے لیس کیا گیا، جن کی بدولت گشت اور چیکنگ کا عمل شفاف اور مؤثر بنا۔ مشتبہ افراد کی فوری شناخت کے لیے ای-پولیس اور کرائم پریوینشن موبائل ایپس کو استعمال میں لایا گیا۔ سیف سٹی اتھارٹی سے مستقل رابطہ رکھ کر شہر میں نصب کیمروں کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور مجرموں کی گرفتاری کو یقینی بنایا گیا۔ کرائم میپنگ کے ذریعے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے ان علاقوں میں نفری میں اضافہ کیا گیا، جس سے جرائم پر قابو پانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی۔
اگر سال 2025 کے ابتدائی پانچ ماہ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صورتحال واضح طور پر پہلے سے بہتر نظر آتی ھے۔ قتل جیسے سنگین جرم میں 20 فیصد کمی، اغواء برائے تاوان کے مکمل خاتمے، ڈکیتی میں 40 فیصد، راہزنی میں 33 فیصد، اور کار چوری میں 83 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ موٹر سائیکل چوری اور چھینا جھپٹی جیسے جرائم میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ سب کچھ کسی وقتی کوشش یا محض ظاہری مہمات کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، حکمت عملی، اور جدید پولیسنگ کے عملی اطلاق کا مظہر ھے۔
جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں 66 منظم گروہوں کو ختم کیا گیا اور ان کے 193 کارندے گرفتار کیے گئے۔ ان سے 4 کروڑ 36 لاکھ روپے مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے نتیجے میں کئی پرانے اور غیر حل شدہ مقدمات کو ٹریس کیا گیا، جس سے متاثرین کو انصاف ملا اور تفتیشی عمل میں شفافیت آئی۔
اشتہاری مجرمان کی گرفتاری میں بھی قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ مجموعی طور پر 4804 اشتہاریوں کو گرفتار کیا گیا جن میں کیٹیگری "A" کے 2196 خطرناک مجرمان اور کیٹیگری "B" کے 2608 مفرور شامل تھے۔ بین الاقوامی سطح پر انٹرپول کے ذریعے 11 انتہائی مطلوب مجرمان کو بیرونِ ملک سے گرفتار کر کے وطن واپس لایا گیا، جن پر قتل، اغواء اور مالیاتی جرائم کے مقدمات درج تھے۔
پانچ ماہ کے دوران پولیس خدمت مراکز سے ایک لاکھ سے زائد شہریوں نے استفادہ کیا۔ ان مراکز پر پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس، ایف آئی آر کی کاپی اور دیگر 14 اقسام کی خدمات فراہم کی گئیں۔ خدمت مراکز کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ عملے کو جدید
تربیت دی گئی تاکہ شہریوں کو عالمی معیار کی سہولیات مہیا کی جا سکیں۔ پاکستان کا پہلا ڈرائیو تھرو پولیس خدمت مرکز بھی سیالکوٹ میں تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جو جدید پولیسنگ کی نئی جہت ھے۔
عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد سازی کے لیے کمیونٹی پولیسنگ کو فعال کیا گیا۔ شہر، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر 107 کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں، جہاں شہریوں نے اپنی شکایات براہ راست افسران کے سامنے پیش کیں۔ ان شکایات پر فوری احکامات جاری کر کے مسائل کا حل ممکن بنایا گیا، جس سے پولیس پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ مختلف ہسپتالوں، لیبارٹریز، اور تعلیمی اداروں کے ساتھ معاہدے کر کے پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو رعایتی طبی و تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں۔ پولیس لائنز میں رہائشی سہولیات کی بہتری، میس، تفریحی کمرے، ڈسپنسری اور منی آڈیٹوریم کے منصوبے مکمل یا تکمیل کے قریب ہیں۔
احتساب کا عمل بھی مؤثر انداز میں جاری رہا۔ ان پانچ ماہ میں 773 پولیس اہلکاروں کو غفلت، نااہلی، کرپشن اور دیگر خلاف ورزیوں پر سزائیں دی گئیں۔ ان سزاؤں میں معطلی، جرمانہ، انکریمنٹ کی روک، اور برخاستگی شامل تھیں۔ دوسری جانب، 293 افسران و اہلکاروں کو عمدہ کارکردگی پر تعریفی اسناد، نقد انعامات اور دیگر اعزازات سے نوازا گیا۔ اس نظام سے میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ ذمے داری کے جذبے کو فروغ ملا۔
سیالکوٹ پولیس کی قیادت نے صرف داخلی نظام کی بہتری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ شہریوں سے تعلقات میں بھی انقلابی بہتری لائی۔ ان کی طرف سے بارہا یہ پیغام دیا گیا کہ پولیس کا اصل کام عوام کی خدمت، تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہے۔ یہی سوچ تھی جس نے تھانوں کی چیکنگ، رات گئے دور دراز علاقوں کے دوروں، اور خود نگرانی جیسے اقدامات کو ممکن بنایا۔
آج سیالکوٹ کے شہری خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ اور مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ پولیس کی یہ کارکردگی صرف رپورٹس میں درج الفاظ نہیں، بلکہ عملی اقدامات، جدید ٹیکنالوجی کے بروقت استعمال، اور انتھک محنت کا نتیجہ ھے۔ جب قیادت وڑنری ہو، ٹیم محنتی ھو، نظام شفاف ہو، اور عوام کا اعتماد شامل ھو، تو نتائج خود بولنے لگتے ہیں۔ حالیہ عوامی سروے میں بھی شہریوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سیالکوٹ میں اب امن ھے اور ماڈل پولیسنگ کی عملی تصویر پیش کر رہا ھے۔ لیکن
گندی مچھلیاں ہر تالاب میں پائی جاتی ہیں۔