عزم و عمل کی روشن مثال ڈی آئی جی پولیس فیصل کامران

عزم و عمل کی روشن مثال ڈی آئی جی پولیس فیصل کامران

محمد ندیم بھٹی۔
کسی بھی معاشرے میں قانون کی بالادستی اور امن و امان کا قیام اس وقت ممکن ہوتا ھے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ایسے افراد موجود ہوں جو نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہوں بلکہ ان کے دل میں عوام کے لیے درد، انصاف کے لیے جذبہ، اور اصلاحِ نظام کے لیے عملی سوچ ہو۔ ڈی آئی جی پولیس فیصل کامران ایک ایسے ہی افسر ہیں جنہوں نے پولیسنگ کو محض پیشہ نہیں بلکہ مشن سمجھا، اور جن کی خدمات عوامی اعتماد، شفافیت، اور قانون کی حکمرانی کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہیں۔
فیصل کامران کی شخصیت میں ایک عجیب کشش 
ھے۔ وہ نہ صرف ایک منجھے ہوئے منتظم ہیں بلکہ ایک باکردار، باوقار اور اصول پسند انسان بھی ہیں۔ ان کا یقین 
ھے کہ پولیس کا اصل کام صرف مجرموں کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ مظلوم کے لیئے آواز بننا، محروم طبقات کو تحفظ دینا، اور ہر شہری کو یہ احساس دلانا ہے کہ قانون  پوری  طاقت  کے ساتھ اس کے ساتھ  مشکل  وقت میں  ساتھ کھڑا ھے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کے کیریئر کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ھے کہ وہ جرائم کے خلاف محض روایتی انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ ہر آپریشن، ہر منصوبے کے پیچھے ایک مکمل تجزیہ، حکمت عملی اور سماجی پہلوؤں کو مدنظر رکھنے والی سوچ ہوتی ھے۔ انہوں نے جرائم کی نوعیت، مجرموں کے محرکات، اور متاثرہ طبقات کی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیز ترتیب دیں۔
ان کی قیادت میں مختلف علاقوں میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ منظم جرائم، ڈکیتی، چوری، منشیات فروشی اور خواتین کے خلاف جرائم کے خلاف بھرپور اقدامات کیے گئے۔ ان کے انداز میں ایک خاص بات یہ 
ھے کہ وہ پولیسنگ کو محض "ردِ عمل" کی بجائے "پیشگی تدارک" کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، ٹیکنالوجی کا استعمال، اور عوامی تعاون کو ترجیح دی۔
فیصل کامران کا ماننا ھے کہ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلہ کم کیے بغیر نہ تو جرائم پر قابو پایا جا سکتا ھے اور نہ ہی امن کا خواب شرمند? تعبیر ہو سکتا ھے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے "کمیونٹی پولیسنگ" کو فروغ دیا۔ تھانوں میں عوامی شکایات کی سماعت، کھلی کچہریاں، محلہ کمیٹیاں، اور بزرگوں و خواتین کے لیے علیحدہ سہولیات ان کے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کے ان اقدامات کی بدولت پولیس کا تاثر بہتر ہوا اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا۔ شہریوں کو یہ محسوس ہوا کہ پولیس صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ان کا محافظ، معاون اور دوست بھی ہو سکتی ھے۔
فیصل کامران کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک روشن پہلو یہ بھی ھے کہ انہوں نے صرف باہر کی کارروائیوں پر توجہ نہیں دی بلکہ ادارے کے اندر موجود خامیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کی تربیت، اخلاقی معیار، رویے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے۔ تربیتی کورسز، سیمینارز، ڈسپلنری اصلاحات، اور بہتر کارکردگی پر انعامات کا سلسلہ ان کے دور میں شروع ہوا۔
انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر پولیس افسر نہ صرف قانون کا عالم ہو بلکہ عوام سے خوش اخلاقی اور انصاف سے پیش آنے کا قائل بھی ہو۔ ان کے دور میں فورس کی اندرونی تنظیم نو نے یہ ثابت کیا کہ قیادت اگر مخلص ہو تو ادارے خود بخود سدھرتے ہیں۔
جدید دور کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی آئی جی فیصل کامران نے پولیسنگ میں ٹیکنالوجی کے کردار کو تسلیم کیا اور اسے فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے ڈیجیٹل کرائم ریکارڈ سسٹم، آن لائن شکایت مراکز، سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ، اور ایپلیکیشن بیسڈ ریپورٹنگ سسٹمز کو متعارف کروایا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ شہریوں کی رسائی آسان ہوئی، وقت کی بچت ہوئی، اور شفافیت کو فروغ ملا۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے معاشرے کے کمزور طبقات، بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ انہوں نے خواتین ڈیسک، خصوصی ہیلپ لائنز، اور تشدد کا شکار خواتین کے لیے فوری قانونی مدد کی سہولیات متعارف کروائیں۔ بچوں کے اغوا، جنسی استحصال اور گھریلو تشدد جیسے حساس معاملات پر خصوصی ٹیمیں اور تربیت یافتہ افسران تعینات کیے۔
ان کا ماننا ھے کہ ایک مہذب معاشرہ تبھی وجود میں آ سکتا ھے جب خواتین اور بچے خود کو محفوظ سمجھیں، اور پولیس ان کی حفاظت کو  اپنا فرض  سمجھے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کی یہ خصوصیت انہیں دیگر  پولیس افسران سے ممتاز کرتی ھے کہ وہ عوام سے براہِ راست رابطے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنی موجودگی کو عوام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کھلے دروازوں، سوشل میڈیا، اور عوامی ملاقاتوں کے ذریعے وسعت دی۔ ان کے دفتر میں ہر شخص کو سنا جاتا ھے، اور ان کی ہدایت ہوتی ھے کہ کوئی بھی درخواست گزار  انصاف لئے بغیر خالی ہاتھ نہ لوٹے۔
اسی اصول کے تحت انہوں نے تھانوں میں بھی نگرانی کا نظام بہتر بنایا۔  اور اکثر  رات کے پچھلے  پہر بھی  تھانوں  کا دورہ کیا، جس کا فائدہ  یہ ھھوا کہ ایس ایچ اوز، تفتیشی افسران اور دیگر عملے کو جوابدہ بنایا گیا تاکہ عوام کے ساتھ بدتمیزی، کرپشن یا غفلت کا کوئی واقعہ سامنے نہ آئے۔
نوجوانوں کے لیے رہنمائی کی بات کریں تو فیصل کامران کا ماننا ھے کہ نوجوانوں کو مثبت راستہ دکھانا پولیس کی اہم ترین سماجی ذمے داریوں میں شامل ھے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں پولیس آفیسرز کی تعیناتی، سیمینارز، لیکچرز اور آگاہی مہمات کے ذریعے نوجوان نسل کو جرائم سے دور رکھنے کی  حقیقی کوشش کی۔ منشیات، تشدد اور گینگ کلچر کے خلاف ان کی مہمات قابلِ ستائش ہیں۔
بہترین قیادت وہ ھی ھے جو  اپنی اصلاحات  سے واضح فرق ڈالتی ھے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کی خدمات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ اگر نیت نیک ھو، سوچ واضح  ھو، اور عمل مسلسل ھو، تو پولیس جیسے مشکل ترین ادارے کو بھی عوامی اعتماد کا مرکز بنایا جا سکتا ھے۔ وہ صرف ایک پولیس افسر نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک مشن، اور ایک جدوجہد کا نام ہیں۔
ان کی شخصیت میں عاجزی، کردار میں مضبوطی، فیصلوں میں بصیرت اور اندازِ گفتگو میں خلوص جھلکتا ھے۔ انہوں نے یہ سکھایا ہ

ھے کہ قیادت صرف کرسی پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ ہر لمحہ اپنی ٹیم، ادارے اور قوم کے لیے جواب دہ ہونے کا احساس ھے۔
   میرے قریبی  دوست معروف دانشور  عاصم شفیق بٹ صاحب کے ساتھ  ایک  لمبی  معاشرتی فکریہ نشست  میں بیٹھ کر یہ نتیجہ اخز کیا ھے کی  ڈی آئی جی فیصل کامران  جیسے افسران کسی بھی قوم کے لیے سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان جیسے رہنماؤں کی رہنمائی میں اپنے اداروں کو بہتر بنائیں اور اپنے بچوں کو یہی سکھائیں کہ خدمت، اخلاص اور ایمانداری ہی اصل طاقت ھے۔