بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
دونوں کی جانب سے سزا معطل کرنے اور اپیلوں پر حتمی فیصلے تک رہائی کی درخواستیں بھی دائر کر دی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں ایڈووکیٹ فیصل صدیقی، ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ نے دائر کیں۔اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے دوران منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ درخواست گزاروں کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا گیا، جو ان کے بقول خفیہ ٹرائل کے مترادف تھا۔اپیلوں میں غیر شفاف عدالتی کارروائی سے متعلق مختلف عدالتی نظیروں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا ہے کہ ٹرائل کے دوران شفاف سماعت اور قانونی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔اپیل کنندگان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ اپیلوں پر فیصلہ ہونے تک سزا معطل کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔