پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے بیانات پر مبنی ہے، جس میں انہوں نے مذاکرات، ملک کی خارجہ پالیسی اور افغانستان و بھارت سے تعلقات کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مزاحمت کے بعد ہی مفاہمت ممکن ہے اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے گفتگو ضروری ہے۔بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے تاکہ وہ بہتر فیصلہ کر سکیں کہ پارٹی کو کیا اقدامات کرنے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فواد چوہدری نے اسپتال میں ان سے عیادت کی اور اب گھر آ کر ملاقات کی، جس پر انہوں نے کہا کہ مہمان کو جواب دینا ضروری نہیں۔شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے اور توقع ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
انہوں نے امن کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارڈر پر صورتحال قابو میں ہے اور بھارت سے خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے، لیکن پاکستان نے بھارت کو جنگ میں ہرایا اور اللہ نے عزت دی۔یہ بیان سیاسی صورتحال، مذاکرات اور ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔