پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کی جانب سے چیف جسٹس سے بریفنگ لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں قانون کی عملداری کی کیا صورتحال ہے۔
آئی ایم ایف اور عدلیہ کا معاملہ
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آئی ایم ایف کا وفد چیف جسٹس سے بریفنگ لے۔ ان کے بقول، اس واقعے سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سیاسی مقدمات اور 9 مئی کیسز
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز جلد تمام مقدمات سے بری ہو جائیں گے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ وہ 9 مئی کے مقدمات میں مکمل بے قصور ہیں اور عدالتوں میں بے گناہی ثابت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان نے کہہ دیا ہے کہ پہلے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے، اور 26ویں آئینی ترمیم کی درخواستوں پر غور کر لینا زیادہ بہتر ہوتا۔ ان کے مطابق، عدلیہ کے سینارٹی لسٹ (سینئرٹی رولز) کو بھی متاثر کیا گیا ہے، جو ایک نیا تنازع کھڑا کر سکتا ہے۔
گرینڈ الائنس کی پیشگوئی
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اب پی ٹی آئی کے موقف کی حمایت کر رہی ہیں اور جلد ایک بڑا "گرینڈ الائنس" تشکیل پانے جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنی جماعت مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے لاتعلق ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔مزید برآں، مفتاح اسماعیل، محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن بھی تحریک انصاف کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں، جو ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
حکومتی ہٹ دھرمی اور جلسوں پر پابندی
شاہ محمود قریشی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی ہے اور اپوزیشن کو جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ صوابی میں پی ٹی آئی نے تمام رکاوٹوں کے باوجود جلسہ منعقد کیا، حالانکہ دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ کو ملتان میں جلسہ کرنے کی اجازت تھی، لیکن جب ان کی بیٹی نے وہاں ایک ریلی نکالی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے مطابق، حکومت کا یہ امتیازی سلوک عوام دیکھ رہے ہیں اور اس کا ردعمل ضرور آئے گا۔
پی ٹی آئی کی پالیسی اور خط کی بازگشت
سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کسی ڈیل کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ قانون اور عدالتوں کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بانی (عمران خان) نے ایک خط میں اپنی رائے اور تجاویز مثبت سوچ کے ساتھ پیش کی تھیں، جو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ ان کے بقول، خط کا مقصد ایک سیاستدان کا موقف عوام تک پہنچانا تھا، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کسی بھی دباؤ میں نہیں آئے گی اور قانونی جنگ لڑ کر سرخرو ہوگی۔