ڈی چوک احتجاج کیس: شہریار آفریدی کی ضمانت میں توسیع

ڈی چوک احتجاج کیس: شہریار آفریدی کی ضمانت میں توسیع

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہریار آفریدی نے اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC) میں شریک ملزمان کے ساتھ ہی ڈی چوک احتجاج کیس کا فیصلہ سنانے کی استدعا کی۔

کیس کی سماعت کی تفصیلات:
سماعت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی۔شہریار آفریدی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ شریک ملزمان کی عبوری ضمانتیں فروری تک بڑھائی جا چکی ہیں، لہذا ان کے ساتھ ہی کیس سنا جائے۔عدالت نے شہریار آفریدی کی 5 مقدمات میں عبوری ضمانت 15 فروری 2025 تک بڑھا دی۔
عدالتی حکم:
شہریار آفریدی کو عدالت میں حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت فروری 2025 میں رکھی ہے۔
کیس کی تفصیلات:
شہریار آفریدی پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج مقدمات شامل ہیں:

تھانہ ترنول
تھانہ سیکریٹریٹ
تھانہ مارگلہ
تھانہ کوہسار
ان مقدمات کا تعلق ڈی چوک احتجاج اور دیگر مبینہ خلاف ورزیوں سے ہے۔
پس منظر:
ڈی چوک احتجاج کیس پی ٹی آئی کے دھرنے اور مظاہروں سے منسلک ہے، جس میں پارٹی رہنماؤں پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، امن و امان میں خلل ڈالنے، اور پولیس سے جھڑپوں جیسے الزامات شامل ہیں۔شہریار آفریدی ان مقدمات میں نامزد ہیں، لیکن وہ بارہا عبوری ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔یہ کیس اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہروں اور حکومت مخالف سرگرمیوں کے دوران درج کیے گئے متعدد مقدمات میں سے ایک ہے۔