ڈی چوک احتجاج کیس: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے راجہ بشارت کی ضمانت منظور کر لی

ڈی چوک احتجاج کیس: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے راجہ بشارت کی ضمانت منظور کر لی

ویب ڈیسک: اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر کو ڈی چوک پر ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنما راجہ بشارت کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

راجہ بشارت نے 26 نومبر کو ڈی چوک پر احتجاج کے حوالے سے چار مختلف کیسز میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ ان کیسز میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور تشویش ناک کارروائیوں کے الزامات شامل ہیں۔اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے راجہ بشارت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت فراہم کی۔

 عدالت نے ان کی ضمانت کی منظوری کے وقت اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ مقدمات میں شامل دیگر ملزمان کے ساتھ راجہ بشارت کی حاضری ضروری تھی۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے رہنما کے حق میں آیا ہے، جنہوں نے عدالت میں اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کی مظاہروں میں شرکت کسی غیر قانونی کارروائی کا حصہ نہیں تھی اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔