بیلجیئم میں 2024 کے دوران پناہ کی درخواستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 2015 کے مہاجرین بحران کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
سال بھر میں مجموعی طور پر 39,615 افراد نے بین الاقوامی تحفظ کے لیے درخواست دی، جو کہ 2023 کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔
درخواستوں کی نمایاں تفصیلات:
اکتوبر 2024 میں سب سے زیادہ 4,383 درخواستیں موصول ہوئیں، جو کسی ایک مہینے میں دہائی کے سب سے زیادہ اعداد و شمار ہیں۔درخواست دہندگان میں اکثریت فلسطین، شام، اریٹیریا، اور ترکیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔فلسطینی درخواست دہندگان کی تعداد میں 74 فیصد اضافہ، اور شامی درخواست دہندگان میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
حکام کی پریشانی اور تجاویز:
بیلجئین حکام نے پناہ کے موجودہ نظام پر بڑھتے دباؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا:سبکدوش ہونے والی سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے پناہ و ہجرت، نکول ڈی مور نے بتایا کہ پناہ کے متلاشی افراد اکثر یورپی یونین کے دوسرے ممالک میں رجسٹرڈ ہونے کے باوجود بیلجیئم آتے ہیں، جسے "ثانوی ہجرت" کہا جاتا ہے۔تقریباً نصف درخواست دہندگان پہلے ہی یورپ کے کسی اور ملک میں رجسٹرڈ ہو چکے تھے۔ڈی مور نے یورپی مائیگریشن پیکٹ کے تحت اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ رجحان روکا جا سکے۔ ان کے مطابق،"ہمیں پناہ گزینوں کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ یورپی یونین کے کسی دوسرے ملک میں منفی فیصلے کے بعد بیلجیئم میں دوبارہ درخواست دینا بے معنی ہے۔"
سیسٹم پر دباؤ اور مسائل:
بیلجیئم کے کمشنر جنرل برائے مہاجرین اور بے وطن افراد (CGRS) نے 34,052 فیصلے جاری کیے۔تاہم، سال کے اختتام پر 26,000 سے زائد کیسز ابھی بھی زیر التوا تھے، جو 2021 کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہیں۔اس بڑھتے بیک لاگ نے پناہ گاہوں کے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ہزاروں اکیلے مرد پناہ گزین بنیادی سہولیات جیسے رہائش اور خوراک سے محروم ہیں۔
نتائج:
یہ صورتحال بیلجیئم کے پناہ گزینوں کے نظام پر نہ صرف دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ یورپ بھر میں پناہ کی پالیسیوں میں ہم آہنگی کی کمی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یورپی یونین کے پالیسی سازوں کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ اس رجحان کو روکا جا سکے اور پناہ کے متلاشی افراد کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکے۔