نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی، سینیٹر شیری رحمٰن نے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے اعلان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں امن کی آڑ میں کوئی بھی غیر منصفانہ سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کا احتساب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی امن کے لیے فلسطین کے عوام کے حقوق، ضروریات اور مفادات کا احترام کیا جانا چاہیے۔یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 15 ماہ اور 1 ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران غزہ پر 85,000 ٹن بارود برسایا گیا۔ اسرائیلی فوج نے 47,000 فلسطینیوں کی نسل کشی کی اور 115,000 افراد کو زخمی کیا۔ رپورٹس کے مطابق، تباہ شدہ شہروں کی عمارتوں اور گھروں کے ملبے سے ہزاروں لاپتہ فلسطینیوں کی لاشیں ملنے کا خدشہ ہے۔غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد، اسرائیل نے بدھ کی شب غزہ سٹی سمیت دیگر علاقوں میں شدید بمباری کی، جس میں 21 ہلاکتیں ہوئیں۔
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں رفح، نصیرات اور شمالی غزہ میں جمعرات کی علی الصباح تک جاری رہیں، جس کے نتیجے میں متعدد گھر بھی تباہ ہو گئے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری سے نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت فریقین کے درمیان تین مختلف مراحل میں جنگ بندی ہو گی۔ اس معاہدے کے تحت، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی کی شرائط، اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر بات چیت جاری ہے۔