عمر رسیدہ افراد کے جسمانی، ذہنی اور معاشرتی مسائل

ڈاکٹر محمد جمیل

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کی جسمانی، ذہنی اور معاشرتی حالت میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ زندگی کا یہ مرحلہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے کیونکہ اسی عمر میں انسان مختلف مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں بزرگ شہریوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جو ان کی صحت اور خوش حالی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

عمر رسیدہ افراد میں عام جسمانی بیماریاں
بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی نظام سست ہو جاتے ہیں، قوت مدافعت کمزور پڑتی ہے اور مختلف بیماریوں کا سامنا عام ہو جاتا ہے۔ ان میں درج ذیل بیماریاں نمایاں ہیں:ہائی بلڈ پریشر اور شوگر‘گردوں کے امراض‘جوڑوں کا درد اور گٹھیا‘نظر کی کمزوری اور موتیا‘قبض، ہاضمے کے مسائل اور یورینری انفیکشن‘دل کی بیماریاں‘ان تمام بیماریوں کا بروقت علاج، مناسب پرہیز اور میڈیکل چیک اپ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

ذہنی صحت کے عام مسائل
بزرگوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ان کی مجموعی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عام ذہنی مسائل میں شامل ہیں:ڈپریشن: تنہائی، بچوں کی عدم توجہ، مالی یا جسمانی کمزوری اس کا باعث بن سکتی ہے۔یادداشت کی کمزوری (ڈیمینشیا/الزائمر)بے چینی، نیند کی کمی اور پریشانی‘مستقبل کا خوف اور زندگی کا بے مقصد محسوس ہونا
معاشرتی مسائل
بزرگ افراد کو معاشرتی سطح پر بھی کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جن میں نمایاں ہیں:
تنہائی اور سماجی علیحدگی‘نظراندازی اور بے توقیری‘اولاد کا مصروف طرز زندگی اور عدم دلچسپی‘معاشی انحصار اور خودمختاری کی کمی‘ریٹائرمنٹ کے بعد بیکاری کا احساس‘یہ تمام عوامل ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
بزرگوں کی فلاح و بہبود کے اہداف

ایک صحت مند معاشرہ تبھی قائم ہو سکتا ہے جب ہر عمر کے افراد کو مساوی حقوق اور سہولیات دی جائیں۔ بزرگوں کے لیے فلاح و بہبود کے اہداف درج ذیل ہو سکتے ہیں:بہتر صحت کی سہولیات‘معاشی تحفظ‘سماجی قبولیت‘ذہنی و جذباتی سکون‘فعال معاشرتی کردار
یہ اہداف کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟
یہ اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت، خاندان، صحت کے ادارے اور معاشرہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا:ریگولر ہیلتھ چیک اپ‘بزرگوں کے لیے مخصوص ہسپتال یا وارڈز‘ذہنی صحت کے ماہرین تک رسائی‘معاشی معاونت، پنشن اسکیم اور صحت انشورنس‘روزمرہ سرگرمیوں میں بزرگوں کی شمولیت‘خصوصی نشستیں، بزرگ دوستانہ انفراسٹرکچر‘خاندان اور معاشرے کی ذمہ داریاں
بزرگوں کی فلاح و بہبود میں سب سے اہم کردار ان کے قریبی رشتہ داروں اور معاشرے کا ہوتا ہے۔ ان ذمہ داریوں میں شامل ہیں:
محبت اور توجہ دینا‘ان کی رائے کو اہمیت دینا‘وقت دینا اور بات چیت کرنا‘روزمرہ امور میں ان کی شمولیت‘معاشی طور پر سہارا دینا‘ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا‘اسلام کی بزرگوں سے متعلق رہنمائی
اسلام بزرگوں کی عزت، خدمت اور ان سے حسن سلوک پر بہت زور دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں کئی مقامات پر اس حوالے سے رہنمائی موجود ہے:’’اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو" (البقرہ: 83)
’’جو شخص کسی بوڑھے کا احترام کرتا ہے، اللہ اس کے لیے بھی ایسے لوگوں کو مقرر کرتا ہے جو اس کی بڑھاپے میں خدمت کریں" (حدیث نبوی)
’’بزرگ مومن کی دعا رد نہیں ہوتی"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "بوڑھوں کے چہروں میں تم اپنے کل کو دیکھو"
کراچی میں واقع "المکی المدنی ڈائلاسس سینٹر" بزرگوں کی صحت کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ یہاں روزانہ درجنوں بزرگ مریضوں کو مفت ڈائلاسس، ادویات اور مشورے فراہم کیے جاتے ہیں۔ سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر، ڈاکٹر اسفند یار احمد، نہ صرف ماہر نیفرو لوجسٹ ہیں بلکہ بزرگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
بزرگوں کو نظر انداز کیے جانے کی وجوہات
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بزرگوں کو کئی وجوہات کی بنا پر نظر انداز کیا جاتا ہے:تیز رفتار طرز زندگی‘مشینی دور میں خاندانی روابط کی کمزوری‘افرادِ خانہ کی ترجیحات میں تبدیلی‘معاشی مسائل اور سہولیات کی کمی‘سوشل میڈیا اور موبائل کی مصروفیت‘بزرگ افراد ہمارے معاشرے کا وہ آئینہ ہیں جو ہمارے ماضی کو حال سے جوڑتے ہیں۔ ان کی صحت، عزت اور خوش حالی نہ صرف انسانی، بلکہ اسلامی و سماجی فریضہ بھی ہے۔ ہمیں بطور فرد اور ادارہ یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم بزرگوں کو وہ عزت، سہولت اور محبت دیں جو ان کا حق ہے۔