الائیڈ بینک کے پنشنروں کے ساتھ دھوکہ دہی

مسرور احمد مسرور

بینکوں کو لوگوں کی امانتوں کا امین ادارہ سمجھا جاتا ہے جہاں امانت میں خیانت اور بے ایمانی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، بینکوں کو اپنے کسٹمرز اور اسٹاف کے ساتھ مالی معاملات میں شفافیت کا مظاہرہ کرنا ہر طرح سے لازم ہے اگر بینکوں میں ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا تو انھیں بینک کا نام دینا سراسر غلط ہے کیونکہ جو ادارہ امانت میں خیانت اور بے ایمانی کا مرتکب ہوتا ہے اس کے خلاف حکومت کو اسٹیٹ        بینک کے ذریعے سخت اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہے اور ایسے اداروں کے نام کے ساتھ بینک کا نام استعمال کرنے پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔
بینک اپنے کسٹمرز کے ساتھ منافع کی ادائیگی میں جو ڈنڈی مارتے ہیں یا ان کے اکاؤنٹس میں غیر ضروری طور پر کٹوتی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں وہ بھی بے ایمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسری طرف بینک کے ریٹائرڈ اسٹاف کے ساتھ ان کا غاصبانہ رویہ بہت افسوس ناک ہے۔ بوڑھے پنشنروں کو ان کی ریٹائرمنٹ کے واجبات میں دھوکہ دہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں رلا رلا کر ان کو ان کا حق دیا جاتا ہے۔ یہاں میں الائیڈ بینک کے حوالے سے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ ایک چھوٹا سا بینک تھا، اس کے اسٹاف نے اپنی رات دن کی محنت سے اسے  ترقی کی منزلوں پر رواں دواں کیا اور یہ وہ دور تھا جب کمپیوٹر کی سہولت میسر نہیں تھی اور ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کا طریقہ رائج تھا۔ یہ تو کمپیوٹر آنے کے بعد اسٹاف کو بہت زیادہ سہولتیں حاصل ہوئیں، الائیڈ بینک کے ملازمین نے سخت وقت گزارا اور اپنے ادارے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا لیکن اس اسٹاف کے ساتھ بینک کی انتظامیہ نے ریٹائرمنٹ کے وقت دھوکے بازی سے کام لیتے ہوئے انھیں جو ریٹائرمنٹ کے واجبات ادا کیے وہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دینے کے بجائے 30 جون 2002 کی تاریخ سے ادا کیے۔ ریٹائرڈ اسٹاف بینک انتظامیہ کی اس چال بازی کو سمجھ نہ سکے لیکن بھلا ہو پشاور کے ان ریٹائرڈ ساتھیوں کا جنھوں نے بینک کی اس ’’ہیراپھیری‘‘ کو سمجھتے ہوئے بینک کے اس غاصبانہ اقدام کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور بڑی عدالتوں سے یہ فیصلہ حاصل کیا کہ بینک نے ریٹائرڈ اسٹاف کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے واجبات کی ادائیگی میں بے ایمانی کا مظاہرہ کیا اور بینک کو  ہا ئی کو رٹ اور سپریم کورٹ کی جا نب سے یہ حکم دیا گیا کہ وہ تمام ریٹائرڈ اسٹاف کو ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے تمام واجبات ادا کریں۔ 
بینک کی یہ بے ایمانی عدالتی فیصلوں سے عیاں ہوگئی لیکن اس کے بعد بھی پشاور کے ان 22 پنشنروں کو ادائیگی تو کر دی گئی لیکن یہاں ایک بار پھر واجبات پر بننے والی مارک اپ کی ایک بڑی رقم ہضم کر گئے جو نہایت افسوس ناک ہے حالاں کہ بینک میں اربوں رو پے پنشن فنڈزا کا و نٹ مین  رکھے ہوئے ہیں اور اس پر کئی ارب روپے منافع بینک حاصل کرچکا ہوگا اس منافع میں سے ایک روپیہ ریٹائرڈ ملازمین کو ادا نہیں کیا گیا اور بینک یہ تمام منافع خرد برد کر گیا۔ اسٹیٹ بینک کو وفاقی محتسب کی طرف سے پنشن فنڈز اکاؤنٹ کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن آج تک پنشن فنڈز اکاؤنٹ کا آڈٹ نہیں ہو سکا۔ جون 2002 کے بعد جو اسٹاف بھی ریٹائر ہوا اس کے ساتھ ریٹائرمنٹ واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں دھوکہ کیا گیا جبکہ سب کو ان کے یہ واجبات ریٹائرمنٹ کے وقت بنیادی تنخواہ کے حساب سے ملنے چاہیے تھے۔ ان کی مدت ملازمت اور پنشن کا جو ریٹ بنتا ہے اس کے ھساب سے ادائیگی ہونی چاہیے تھی لیکن ا یسا نہیںہوا۔
اب بینک نے جیسے تیسے پشاور کے 22 پنشنرز کو ادائیگی کر دی ہے تو بینک پر لازم ہے کہ وہ باقی تمام ریٹائرڈ ساتھیوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ادائیگی کرے، اس سلسلے میں سیکڑوں ریٹائرڈ بینک اسٹاف نے بینک کے صدر کو باقی تمام اسٹاف کو قانون کے مطابق واجبات کی ادائیگی کی درخواست دی ہے جس کے بعد تمام ریٹائرڈ اسٹاف نے ایک مشترکہ قانونی نوٹس بھی بینک انتظامیہ کو ارسال کیا ہے اور پندرہ دن کے اندر تمام ریٹائرڈ اسٹاف کو واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے آگے آنے کا کہا ہے۔ بہ صورت دیگر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا کیس دائر کیا جائے گا تاکہ پریشان حال بینک پنشنروں کو ان کا حق جلد سے جلد مل سکے۔