مسرور احمد مسرور
EOBI بوڑھے لوگوں کی خدمت کا ایک نہایت ہی اہم ادارہ ہے۔ ملک میں سماجی تحفظ کا اہم ستون ہے، لاکھوں بزرگ پنشنرز ادارے سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن ہزاروں مستحق پنشنروں کو ان کے حق سے محروم کرنے میں بھی بہت فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ بزرگ بوڑھے لوگ اپنے حق کے حصول کے لیے پریشان ہیں لیکن ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اربوں روپوں میں کھیلنے والے ادارے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے اور بوڑھوں کو حقیقی معنوں میں اطمینان کی لذت سے آشنا کرنا چاہیے۔
یہ ادارہ ایک مستحق پنشنر شاہد یعقوب کے ساتھ ان کے اولڈ ایج پنشن کے حق کے حوالے سے گز شتہ آ ٹھ سال سے سنگین مذاق کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جو بہت افسوس ناک ہے۔ شاہد یعقوب 60 سال مکمل ہونے کے بعد ضروری کاغذات جمع کرنے کے بعد پنشن کا حق دار ہے لیکن ادارے اور متعلقہ افسران کی غلطیوں کی وجہ سے اسے آٹھ سال سے دھکے کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ اولڈ ایج پنشن کے لیے 60 سال عمر 15 سال کی سروس اور سروس کے سرٹیفکیٹ مکمل ہونے کے بعد مستحق پنشنر کو پنشن کا نہ ملنا بہت بڑی زیادتی ہے سخت ناانصافی ہے۔
شاہد یعقوب نے 60 سال کی عمر تک پہنچنے اور 15 سال کی سروس مکمل ہونے کے بعد اولڈ ایج پنشن دیے جانے کی درخواست جولائی 2018 میں جمع کردی تھی اس درخواست پر فیصلہ آنے میں ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد آیا جس میں اولڈ ایج پنشن کے بجائے اولڈ ایج گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ جولائی 2018 سے فروری 2020 تک ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ بنتا ہے، یہ فیصلہ ایک سینئر اور تجربہ کار ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی محمد ایوب نے سنایا۔ سروس کی پندرہ سالہ مدت میں ایک ادارے کی جانب سے سرٹیفکیٹ کو 15 سال کی سروس کی مدت میں شامل نہیں کیا گیا جس کے بعد شاہد یعقوب نے اس متنازع ادارے کی جانب سے دیا گیا سرٹیفکیٹ اور ضروری کاغذات جمع کیے اور فیصلے کے خلاف اپیل کی۔ اس اپیل کی سماعت بھی ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی اور محمد ایوب صاحب نے کی اور سترہ ماہ تک سات سماعتوں میں کیس کو بہت باریکی سے سمجھنے اور کاغذات کو دیکھنے کے بعد شاہد یعقوب کے حق میں 21 جنوری 2022 کو فیصلہ سنایا اور 15 سال کی مدت پوری ہونے پر پنشن کا حق دار قرار دیا۔
سینئر ترین اور وسیع تجربے کے مالک ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی محمد ایوب نے اپنے اس فیصلے میں فرمایا:’’تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے میسرز کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائیز سوسائٹی لمیٹڈ ایک فعال یونٹ ہے اور جنوری 2022 کی ماہانہ شراکت بھی کورنگی ریجن میں وصول ہو چکی ہے۔ یہ یونٹ 1994 سے میسرز SESSI کے ساتھ بھی رجسٹرڈ تھا۔ میں نے فائل پر موجودہ ریکارڈ کا مکمل طور پر مطالعہ اور جائزہ لیا ہے۔ EOBI ایکٹ 1976 میسرز کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائیز کو آپریٹیو سوسائٹی لمیٹڈ پر اس تاریخ سے لاگو ہوتا ہے جس تاریخ سے یہ ادارہ SESSI کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا تاہم یہ لوگ تقریباً 8 سال بعد یعنی 2001 میں SESSI کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے۔ ایمپلائیز کوآپریٹیو سوسائٹی اور جواب دہندگان کے اس عمل کی وجہ سے متعدد ملازمین کو ان کے قانونی حق سے محروم کر دیا گیا اور ان میں سے بہت سے ملازمین ممکن ہے کہ اولڈ ایج بینیفٹ (بڑھاپے کی پنشن/فوائد) حاصل کیے بغیر ہی ریٹائر ہو گئے ہوں یا وفات پا گئے ہوں۔ لہٰذا میں ریجنل آفس کورنگی کو ہدایت کرتا ہوں کہ EOBI ایکٹ 1976 کے دائرہ کار کے تحت میسرز کراچی ایڈمنسٹریشن ایمپلائیز کوآپریٹیو سوسائٹی کو 1994 سے یا اس تاریخ سے جس دن یہ یونٹ SESSI کے ساتھ رجسٹرڈ ہوا تھا رجسٹر کرنے اور اس یونٹ سے SESSI کے ریکارڈ کے مطابق کم از کم 10 افراد کے سلسلے میں فی شخص 01 روپے فی دن (PR 01) کے حساب سے واجب الادا شراکت/کنٹریبیوشن وصول کرے۔
درخواست گزار کی جانب سے 1994 سے 1999-10-05 تک کی سروس کو بھی قابل بیمہ ملازمت insurable Employment شمار کیا جا سکتا ہے۔مذکورہ بالا شرط کے مطابق درخواست نمٹا دی جاتی ہے۔ محمد ایوب ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی۔
19 فروری 2020 کے بعد 21 جنوری 2022 کو نیا فیصلہ آیا۔ یہاں بھی دو سال لگے، 4 سال یوں ہی گزر گئے ایک بوڑھے پنشنر کو پریشان کرنے میں اگلا مرحلہ محمد ایوب صاحب کے 21 جنوری 2022 کے فیصلے پر عمل درآمد تھا لیکن فائل کو دبا دیا گیا اور فیصلے پر عمل درآمد ہونا مشکل دکھائی دیا۔
شاہد یعقوب کے پنشن کیس کو خراب کرنے والے ریجنل ہیڈ کورنگی علی انور جمالی نے ایک سال بعد محمد ایوب صاحب کے فیصلے کے خلاف اپیل خاموشی سے دائر کی ۔ اپیل کی کاپی شاہد یعقوب کو فراہم نہیں کی گئی، البتہ بہت تگ و دو کے بعد لا ڈائریکٹر مظفر ابریز صاحب نے مہربانی فرماتے ہوئے اس اپیل کی کاپی فراہم کی۔ 2018 سے 2022 تک چار سال کا وقت ضایع کر دیا گیا۔ اب آگے دیکھیں وقت کو کس طرح برباد کیا جاتا ہے۔ اس اپیل پر سماعت کے لیے بہت مشکل سے 28 دسمبر 2023 مقرر کی گئی۔ شاہد یعقوب کو تحریری طور پر اس سماعت کی بابت مطلع کیا گیا لیکن 28 دسمبر کو شاہد یعقوب کو یہ بتایا گیا کہ EOBI کی خاتون چیئر پرسن ایک دن پہلے ہی چند کیسز کی سماعت کرنے کے بعدکراچی کے لیے روانہ ہو گئیں جہاں انھیں ایک سیاسی جلسے میں شرکت کرنی تھی۔ اس طرح مظلوم مستحق پنشنر منہ دیکھتے رہ گئے البتہ 28 دسمبر کے بعد 24 مئی 2024 کو اپیل سماعت کے لیے مقرر ہوئی جس کا فیصلہ 27 مئی 2024 کو سامنے آیا جس میں کنوینر/ ممبر خاقان مرتضیٰ صاحب نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ 2020 اور 2022 کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ بالترتیب چار اور دو سال بعد۔
خاقان مرتضیٰ صاحب نے اپنے فیصلے میں فرمایا کہ دلائل سنے گئے اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، اس اتھارٹی کی رائے ہے کہ ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی III نے ایکٹ 1976 کی دفعات 33 اور 34 کے تحت جو Respondent کی شکایت کی سماعت کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے لہٰذا مورخہ 19 فروری 2020 اور 21 جنوری 2022 کو دفعات 33 اور 34 کے تحت جاری کیے گئے احکامات کو منسوخ کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی I کو واپس بھیجا جاتا ہے۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ موجودہ اپیل کو دفعہ 33 کے تحت اپیل سمجھتے ہوئے مسٹر محمد شاہد یعقوب (جواب دہندہ) ریجنل آفس ویسٹ وہارف اور ریجنل آفس کورنگی کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد اسے جلد از جلد قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ خاقان مرتضیٰ حقائق پر مبنی 21 جنوری 2022 کے فیصلے کے مندرجات پر بھی ایک نظر ڈال لیتے، لیکن وہ جلدی میں تھے۔
محمد شاہد یعقوب کو اولڈ ایج گرانٹ کی منظوری اور دوسرا تفصیلی فیصلہ جو شاہد یعقوب کے حق میں تھا ادارے کے ایک بہت ہی سینئر اور تجربہ کار ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی محمد ایوب نے صادر فرمایا لیکن ادارے نے اپنے اتنے سینئر ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی کے فیصلوں کو منسوخ کرکے ان فیصلوں کی بے توقیری کی اور ایک ذمہ دار اتھارٹی کی کارگزاری پر مٹی ڈال دی اور EOBI کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔
محمد شاہد یعقوب نے اپنی درخواست بہ حیثیت ایک پاکستانی اور راولپنڈی کے رہائشی ہونے کے ناطے اور EOBI کے ذمہ دار حکام کی ہدایت پر ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی III اسلام آباد کے سامنے پیش کی جو شاہد یعقوب کا ایک صحیح اقدام تھا۔ اس سلسلے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ دوسرے اگر درخواست ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی کو غلط پیش کی گئی اور تمام سماعت غلط ہوئی اور اختیارات سے تجاوز کی بات کی گئی تو اس تمام قصے میں شاہد یعقوب کی کوئی غلطی ہے تو اس کی نشان دہی کی جائے۔ ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی محمد ایوب ایک ذمہ دار تجربہ کار اتھارٹی مانے جاتے تھے۔ انھیں اس درخواست کی سما عت نہیں کرنا چاہیے تھی لیکن انھوں نے سب سوچ سمجھ کر اس درخواست کی سماعت کا فیصلہ کیا۔ ملک کے عدالتی نظام میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں جب کوئی پٹیشن پیش کی جاتی ہے تو رجسٹرار کی یہ ذمہ داری ہے کہ پٹیشن کا اچھی طرح جائزہ لے اور اگر کوئی اعتراض ہو تو وہ درخواست اعتراض دور کرنے کے لیے واپس کر دی جاتی ہے۔ یہاں بھی ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی کے ساتھ ایک رجسٹرار موجود رہتا ہے جس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پٹیشن کی اچھی طرح اسکروٹنی کرے اور اگر کوئی اعتراض نہ ہو تو اسے سماعت کے لیے مقرر کرے۔ ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ شاہد یعقوب کی غلطی تھی۔ پھر سترہ مہینے کے عرصے میں سات سماعتوں میں کیس کا جائزہ لیا گیا اور پھر فیصلہ سنایا گیا۔یہ بھی شا ہد یعقوب کی غلطی تھی
سترہ مہینے تک کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا کہ ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی III اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کیس سن رہے تھے یہاں بھی کیا شاہد یعقوب کی غلطی تھی؟ میں سمجھتا ہوں کہ محمد ایوب کا اس کیس کی سماعت کرنا کوئی غلط فیصلہ نہیں تھا۔
خاقان مرتضیٰ صاحب نے ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی III کے دو فیصلے اس لیے منسوخ کیے کہ انھیں یہ کیسز سننے کا اختیار نہیں تھا جبکہ Factual پوزیشن کچھ اس طرح ہے عدالتی اتھارٹی کے سامنے نظرثانی ادارہ قواعد و ضوابط کے تحت اور نئے حقائق سامنے آنے کی صورت میں دفع 33 کے تحت اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
یہ نظر ثانی درج ذیل میں سے کسی ایک ایڈ جوکیٹنگ اتھارٹی کے سامنے کی جائے گی جو کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں قائم ہیں۔
کسی ایک اتھارٹی کا کہا گیا ہےII, I اور III کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
جو بھی متاثرہ مستحق پنشنر جہاں کا رہائشی ہوگا وہ وہیں درخواست دے گا۔ شاہد یعقوب نے بھی پہلے تو پاکستانی ہونے اور پھر راولپنڈی کا رہائشی ہوتے ہوئے ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی III کے سامنے درخواست پیش کی۔ایسا کرنا ان کا قانونی حق تھا
اس کیس میں شاہد یعقوب کی ایک غلطی ثابت کر دی جائے تو وہ اپنا کیس واپس لینے کو تیار ہیں۔
شاہد یعقوب نے 60 سال مکمل ہونے، تین اداروں میں 15 سالہ سروس ریکارڈ پیش کرنے اور دیگر متعلقہ کاغذات جمع کر چکے ہیں۔ قانون کے مطابق وہ اولڈ ایج پنشن کے حق دار ہیں لیکن بلاوجہ اس کیس کو Twist کیا جا رہا ہے اور آٹھ سال کا لمبا وقت گزار دیا گیا ہے۔
ادارے کی تمام غلطیوں کی سزا شاہد یعقوب کو دی جا رہی ہے اس کیس کو بگاڑنے کا اصل ذمہ دار کورنگی کا ریجنل ہیڈ علی انور جمالی ہے جس نے کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کی رجسٹریشن کے معاملے میں کوتاہی برتی۔ ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی محمد ایوب کو سلام ہے کہ انھوں نے اس ریجنل ہیڈ کی کوتاہی کی نشان دہی کی اور شاہد یعقوب کے حق میں فیصلہ دیا۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جنوری 2026 کو شاہد یعقوب نے چیئرمین صاحب کے دفتر میں ایک اپیل دائر کر رکھی ہے چھ ماہ کا وقت گزر چکا ہے اور نامعلوم کتنا وقت لگے گا۔ بہرحال وقت کی بربادی کسی کو دیکھنی ہو تو EOBI کے معاملات کا تجربہ کریں، سب سامنے آ جائے گا۔ شاہد یعقوب کے کیس کو آٹھ سال ہو گئے اور کوئی پتہ نہیں آگے کتنے سال چلے گا۔۔
خاقان مرتضیٰ صاحب نے شاہد یعقوب کا کیس ایڈجوکیٹنگ اتھارٹی I کو ریفر کیا اور فیصلے میں کہا کہ اس کیس کی جلد سے جلد سما عت کرتے ہوئے فوری فیصلہ سنایا جائے ۔ رجسٹرار عابد ستار صاحب کی ڈکشنری میں فوری فیصلے کا مطلب سوا سال تھا، سو انھوں نے سوا سال مزید ضایع کیا اور دو لفظوں کی کہانی کو ایک طویل داستان بنا دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیس جو شاہد یعقوب کے حق میں پہلے ہی منظور ہو چکا ہے ،کیسے لوگ ہیں، کہاں سے آ جاتے ہیں۔ اب شاہد یعقوب کی 14 جنوری کو چیئرمین کو پیش کی گئی اپیل کی سماعت کب ہوتی ہے، 6 ماہ تو گزر چکے ہیں۔یہاں بھی سوا سال کی کہانی دکھائی دیتی ہے اللہ رحم فر مائے اس ادارے پر
کیسے لوگ ہیں، کہاں سے آ جاتے ہیں