اسرائیل اورفلسطینی عسکریت پسند گروپ معاہدے کو منظور کرنے کے قریب ترین مقام پر ہیں،معاہدہ فریقین کو پندرہ ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کے قریب لے آئے گا،قطر
دوحہ (یواین پی)غزہ میں جنگ بندی کیلئے ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، حماس نے پیش کیا گیا جنگ بندی معاہدے کا مسودہ قبول کرلیا ہے، جس کے بعد غزہ میں جلد جنگ بندی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کے بدلے ایک ہزار فلسطینیوں کو رہا کرے گا، تاہم، اسرائیل نے یحییٰ سنوار کی لاش حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔قطری وزارت خارجہ کے مطابق غزہ میں چوبیس گھنٹوں میں جنگ بندی کی امید ہے۔اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل دو عہدیداروں نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور درجنوں مغویوں کی رہائی کے معاہدے کے مسودے کو قبول کر لیا ہے۔مذاکرات کے ثالثوں میں شامل قطر نے کہا کہ اسرائیل اورفلسطینی عسکریت پسند گروپ معاہدے کو منظور کرنے کے اب تک کے قریب ترین مقام پر ہیں۔معاہدہ فریقین کو پندرہ ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کے ایک قدم قریب لے آئے گا۔امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے مجوزہ معاہدے کی ایک کاپی حاصل کی ہے جبکہ ایک مصری اہلکار اور حماس کے ایک اہلکار نے مصودے کی کاپی کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے۔