غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع، اسرائیل افواج کا غزہ کے علاقوں سے انخلا ء

 مغویوں کی فہرست ملنے تک جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، اسرائیلی وزیراعظم، اسرائیلی فوج نے پابندیوں اور سکیورٹی سے متعلق وارننگ جاری کردی 
یروشلم /غزہ(آئی این پی)اسرائیلی کابینہ کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کی توثیق کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا جس سے مشرق وسطیٰ میں 15 ماہ سے جاری جنگ کے ممکنہ خاتمے کا راستہ کھل گیا،معاہدے پر عمل درآمد پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11:30 بجے شروع ہوا،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے جنگ بندی ڈیل کا پہلا مرحلہ عارضی ہے اور دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کردیں گے،دوسری جانب اسرائیلی فوج کو غزہ میں حالیہ خفیہ آپریشن کے دوران اپنے ایک ساتھی کی لاش کی باقیات ملی ہیں جسے 2014 میں حماس نے اغوا کرکے قتل کردیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے ۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کے بدلے جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے، طے پایا تھا کہ حماس رہائی پانے والے یرغمالیوں کی فہرست فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ جب تک یرغمالیوں کی لسٹ نہیں ملتی تب تک معاہدے پر آگے نہیں بڑھ سکتے، اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا، حماس نے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اسرائیل دوبارہ جنگ کا حق رکھتا ہے۔لٹے پٹے فلسطینی بچے کچھے سامان کے ساتھ تباہ حال گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی فوج نے غزہ کے رہائشیوں کو پابندیوں اور سکیورٹی سے متعلق وارننگ جاری کردی۔اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز غزہ کے مختلف حصوں میں تعینات رہیں گی۔