حماس نے جنگ بندی کے معاہدے پر آمادگی ظاہر کر دی

حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق  کردی
غزہ (آئی این پی) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ 60 دن کی جنگ بندی اور یرغمالیوں و قیدیوں کے تبادلے پر مبنی ایک معاہدے کو قبول کر لیا ۔مصری سرکاری ذرائع کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ ایک 60 روزہ جنگ بندی کی پیشکش کو قبول کر لیا ہے، جس کے تحت غزہ میں قید آدھے یرغمالیوں کی رہائی اور اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے بھی اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہا کہ دیگر فلسطینی گروہوں نے بھی ثالثوں کو اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات پر باضابطہ ردعمل تو نہیں آیا، البتہ ایک اسرائیلی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ انہیں موصول ہوا ہے۔یہ سفارتی کوششیں مصر اور قطر کی جانب سے کی جا رہی ہیں جبکہ امریکہ اس عمل میں ثالثی کے طور پر حمایت فراہم کر رہا ہے۔اس پیشرفت کے دوران، غزہ سٹی میں اسرائیلی فوجی دبا میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شہر کے مشرقی علاقوں میں بمباری کی شدت کے باعث ہزاروں فلسطینیوں نے اپنی رہائش گاہیں چھوڑ کر مغرب اور جنوب کی طرف رخ کر لیا ہے۔